Rahbar sultani
ham-zabaan ho gae ham log shanaasaai hui
ہم زباں ہو گئے ہم لوگ شناسائی ہوئی شب کے سناٹوں میں جب روبرو تنہائی ہوئی آپ کا بزم سے اٹھ جانا مرے حق میں رہا آپ کے بعد مری خوب پذیرائی ہوئی پیاس زخمی رہی زندان کے دروازوں تک بہتے دریاؤ کہاں تم سے مسیحائی ہوئی پہلے کچھ ابر کے ٹکڑوں سا تھا لرزاں اس پر بعد میں کیا ہوا کیوں شکل تھی گہنائی ہوئی ایک مدت ہوئی جس لاش کو دفنائے ہوئے آج وہ لاش ملی نہر میں اترائی ہوئی صرف میراث شہادت ہی نہیں حصے میں دولت گریۂ مظلوم بھی آبائی ہوئی