
Rahi Italvi
Rahi Italvi
Rahi Italvi
Ghazalغزل
tu jab tak rahegi main kaafir rahungaa
تو جب تک رہے گی میں کافر رہوں گا تری یاد کے بت کا مندر رہوں گا تو گل سی جگاتی جہاں کی محبت میں شرمیلا بلبل سا شاعر رہوں گا تری شام غم جتنی لمبی بھی ہو دوست ترے ساتھ از اول تا آخر رہوں گا مصیبت مصیبت گزرتی یہ ہستی مسرت مسرت مہاجر رہوں گا گلہ ہو ستم ہو بلا ہو الم ہو اس امید وصلت کی خاطر رہوں گا گلی میں تری ہے نکموں کا اک جھنڈ شب و روز میں جس میں حاضر رہوں گا
vo taaraa sab se chamkilaa vo taaraa to nahin huun main
وہ تارا سب سے چمکیلا وہ تارا تو نہیں ہوں میں اس اندھیرے افق پر کھویا کھویا سا مکیں ہوں میں قدم اپنا بڑھاتا ہوں وطن اپنا بدلتا ہوں مگر یادوں کے غمگیں راستے پر رہ نشیں ہوں میں جہاں چلتا نہیں کوئی سفر کرتا نہیں کوئی بیاباں بھی گلستاں بھی وہ انجانی زمیں ہوں میں خموشی ہمزباں میری خرابی ہم سفر میری ڈروں کیوں گمرہی سے گمرہی کا ہم نشیں ہوں میں تو محفل میں نہیں شامل بتا راہیؔ کہاں ہے تو غبار آلود سے اس طاق نسیاں پر وہیں ہوں میں
is bayaabaan se jahaan mein saari raahein ajnabi
اس بیاباں سے جہاں ہیں ساری راہیں اجنبی چلتے ہیں میرے فغاں میری یہ آہیں اجنبی ارض پہ آوارگی افلاک میں بے گانگی ہم سفر ہیں صرف تاروں کی نگاہیں اجنبی پھیلتا ہے شہر دل میں ہر کہیں پر انتشار حملہ کرنے آتی ہیں غم کی سپاہیں اجنبی ہم کیوں جائیں اے دوانو ہوش والوں کے دیار ہوش کی جو ہیں پناہیں ہیں پناہیں اجنبی راہیؔ کو دیر آشنا سی ایک دن لپٹے گی موت بھینچتی ہیں ہم کو اب ہستی کی باہیں اجنبی
'ishq ki baatein suntaa rahtaa huun
عشق کی باتیں سنتا رہتا ہوں محفلوں میں بہت اکیلا ہوں مردہ ہوں زندہ ہوں تڑپتا ہوں کیا ہوں میں ایک ادھوری اچھا ہوں شہر کے کھلتے رہتے جنگل میں وسعت دشت کو ترستا ہوں تو سحر کا ابھرتا رنگ و نور میں پراسرار شب کا صحرا ہوں نگری نگری نئے ملے ہیں دوست کیوں گھر آ کر میں اتنا تنہا ہوں کیا بڑے خواب راہیؔ اور کیا شوق خاک کا گرچہ ایک ذرہ ہوں





