SHAWORDS
Rahi Quraishi

Rahi Quraishi

Rahi Quraishi

Rahi Quraishi

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

پہچان کم ہوئی نہ شناسائی کم ہوئی باقی ہے زخم زخم کی گہرائی کم ہوئی سلگا ہوا ہے زیست کا صحرا افق افق چہروں کی دل کشی گئی زیبائی کم ہوئی دوری کا دشت جس کے لیے سازگار تھا آنگن میں قرب کے وہ شناسائی کم ہوئی اب شہر شہر عام ہے گویائی کا سکوت جب سے لب سکوت کی گویائی کم ہوئی کچھ ہو نہ ہو خموشیٔ آئینہ سے مگر پرچھائیوں کی معرکہ آرائی کم ہوئی ہر رنگ زندگی ہے تہہ گرد و روزگار تصویر کی وہ رونق و رعنائی کم ہوئی اک اجنبی دیار میں گزرے ہیں دن مگر یہ کم نہیں خلوص کی رسوائی کم ہوئی راہیؔ رفاقتوں کا یہ انجام دیکھ کر سائے کے ساتھ اپنی شناسائی کم ہوئی

pahchaan kam hui na shanaasaai kam hui

غزل · Ghazal

چشم و رخسار کی اور کاکل و لب کی باتیں یاد آتی ہیں ہمیں آج یہ کب کی باتیں کٹ گئی عمر وفا درد کے ویرانوں میں ہم کہاں اور کہاں شہر طرب کی باتیں جن کے ذہنوں میں ہے تابندہ سحر کی امید وہ کبھی کرتے نہیں ظلمت شب کی باتیں پھر کوئی زخم دل زار نہ تازہ ہو جائے اہل غم سے نہ کرو عیش و طرب کی باتیں قحط ہے دہر میں ارباب نظر کا راہیؔ اب کوئی کس سے کرے شعر و ادب کی باتیں

chashm-o-rukhsaar ki aur kaakul-o-lab ki baatein

غزل · Ghazal

عہد گم گشتہ کی نشانی ہوں ایک بھولی ہوئی کہانی ہوں وہ خوشی ہوں جو درد سلگائے آگ جس سے لگے وہ پانی ہوں ایک آنسو ہوں چشم عشرت کا زیست کا رنج شادمانی ہوں اپنی بربادیوں پہ یاد آیا کتنی آبادیوں کا بانی ہوں سینۂ دشت پر ہوں موج سراب خشک دریاؤں کی روانی ہوں آئنہ خانۂ زمانہ میں عکس اپنا ہوں اپنا ثانی ہوں اک تبسم کی آس میں راہیؔ کب سے محروم شادمانی ہوں

ahd-e-gum-gashta ki nishaani huun

غزل · Ghazal

لہو آنکھوں میں روشن ہے یہ منظر دیکھنا اب کے دیار غم میں کیا گزری ہے ہم پر دیکھنا اب کے اندھیرا ہے وہی لیکن روایت وہ نہیں باقی چراغوں کی جگہ ہاتھوں میں خنجر دیکھنا اب کے سلگتے گھر کی چنگاری بھی بدلہ لینے والی ہے یہ منظر دیکھنا لیکن سنبھل کر دیکھنا اب کے شکست و فتح کی تاریخ لکھی جائے گی یوں بھی تہی دستی سے ہوگا معرکہ سر دیکھنا اب کے شناسائی کے سائے بڑھ گئے صحن رفاقت میں ہماری پشت میں پیوست خنجر دیکھنا اب کے زمیں کو پھر لہو بخشا گیا ہے بے گناہوں کا ستم کے ہر شجر کو پھر ثمر ور دیکھنا اب کے سکوت شب میں آنکھیں بند ہوں گی جب دریچوں کی کوئی سایہ نظر آئے گا در در دیکھنا اب کے چھلکنے والی ہے یہ چشم ویراں ایک دن راہیؔ سلگتے دشت میں کوئی سمندر دیکھنا اب کے

lahu aankhon mein raushan hai ye manzar dekhnaa ab ke

غزل · Ghazal

تباہی بستیوں کی ہے نگہبانوں سے وابستہ گھروں کا رنج ویرانی ہے مہمانوں سے وابستہ سفر قدموں سے وابستہ ہے لیکن راستہ اپنا گلستانوں سے وابستہ نہ ویرانوں سے وابستہ صداقت بھی تو ہو جاتی ہے مقتول فریب آخر حقیقت بھی تو ہو جاتی ہے افسانوں سے وابستہ سپرد خاک ہم نے ہی کیا کتنے عزیزوں کو ہمیں نے کر دیے ہیں پھول ویرانوں سے وابستہ تہی دستی نے تنہا کر دیا ہر ایک محفل میں بجھی شمعیں نہیں رہتی ہیں پروانوں سے وابستہ چراغوں کو رکھا جاتا ہے آندھی اور طوفاں میں فرشتوں کو کیا جاتا ہے شیطانوں سے وابستہ صحیفوں میں کہیں تحریر روشن تھی یہی راہیؔ زمیں پر تھے کبھی انسان انسانوں سے وابستہ

tabaahi bastiyon ki hai nigahbaanon se vaabasta

غزل · Ghazal

لوگ ملنا چھوڑ دیں گے اور کیا فاصلے بڑھتے رہیں گے اور کیا چل رہی ہے چارہ سازی کی نسیم پھول زخموں کے کھلیں گے اور کیا روشنی ہی روشنی ہوگی یہاں دل جلے تھے دل جلیں گے اور کیا گھر کے آئینے میں اپنے عکس سے داستاں سنتے رہیں گے اور کیا میرے دروازے تک آخر آئے کون صرف پٹ ہلتے رہیں گے اور کیا قافلے بڑھتے رہیں گے روز و شب آبلے روتے رہیں گے اور کیا لوگ اس محفل میں راہیؔ میرے بعد میرے افسانے کہیں گے اور کیا

log milnaa chhoD deinge aur kyaa

Similar Poets