SHAWORDS
Rahman Hafeez

Rahman Hafeez

Rahman Hafeez

Rahman Hafeez

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

چراغ آنکھ کی سب بولیاں سمجھتے ہیں یہ ہم سے پوچھ جو ایسی زباں سمجھتے ہیں بہا کے لے گیا سب خد و خال عہد شباب ہم آئینے کو بھی آب رواں سمجھتے ہیں ہمیں ازل سے محبت سکھائی جاتی ہے ہم اہل حرف یہی اک زباں سمجھتے ہیں جہاں یقیں کے تجسس کی آنکھ بند نہ ہو اسے علاقۂ وہم و گماں سمجھتے ہیں اٹھا چکا ہے تکلم تمام پردے مگر ہم ان کہی کو ابھی درمیاں سمجھتے ہیں تباہ کی گئی دنیاؤں کا غبار نہ ہو ہم اہل خاک جسے کہکشاں سمجھتے ہیں ہمارا بوجھ کسی اور نے اٹھایا نہیں تو ہم بھی کیا اسے بار گراں سمجھتے ہیں

charaagh aankh ki sab boliyaan samajhte hain

غزل · Ghazal

یہ عمل موجۂ انفاس کا دھوکا ہی نہ ہو زندگی عشرت احساس کا دھوکا ہی نہ ہو جیسے اک خواب ہوا عہد گزشتہ کا ثبات دم آئندہ مری آس کا دھوکا ہی نہ ہو یہ نگیں بھی نہ ہو بس معجزۂ تار نظر یہ ہنر شیشہ و الماس کا دھوکا ہی نہ ہو مرے تخئیل کے ہی عکس نہ ہوں سبزہ و گل دہر اوہام کا وسواس کا دھوکا ہی نہ ہو ہر یقیں میں جو نکلتا ہے گماں کا پہلو یہ مری عقل کے خناس کا دھوکا ہی نہ ہو

ye amal mauja-e-anfaas kaa dhokaa hi na ho

غزل · Ghazal

مرے پس رو کو اندازہ نہیں تھا میں رستہ تھا مگر سیدھا نہیں تھا مجھے سورج پہ یہ بھی برتری تھی میں روشن تھا مگر جلتا نہیں تھا سفر کی آرزو کچھ دیدنی تھی میں قطرہ تھا مگر رکتا نہیں تھا جڑیں تھیں سایہ تھا پھل پھول بھی تھے میں جتنا تھا فقط اتنا نہیں تھا وہ لگتا تھا مگر ایسا نہیں تھا سمندر ہی سہی گہرا نہیں تھا بھڑک اٹھا جو تیرے آنسوؤں سے وہ میرا زخم تھا شعلہ نہیں تھا وہ انہونی تھی جو ہو کر رہی تھی جو ہونا تھا وہی ہوتا نہیں تھا کہاں کی گرمئ بازار دنیا میں سکہ تھا مگر چلتا نہیں تھا

mire pas ru ko andaaza nahin thaa

غزل · Ghazal

چلا رہی ہیں جس پہ زبانیں لہو لگی یہ وہ صدا تھی جو مجھے بار گلو لگی کیا کیا نہ مس کیا تجھے میں نے فراق میں لیکن تری کمی جو ترے روبرو لگی میں تب قرار دوں گا تجھے اپنا ہم سخن جب میری خامشی بھی تجھے گفتگو لگی اب گھر کے رہ گیا ہوں عجب ازدحام میں ہر آرزو کی پشت سے ہے آرزو لگی اے حسرت کمال کچھ اپنا خیال کر مر ہی نہ جائے یوں مرے سینے سے تو لگی بدنام ہو گئے ہیں جسے لکھ کے آج ہم کل دیکھئے گا فلم یہی کو بہ کو لگی برداشت کا عذاب مری خامشی سے پوچھ توپیں صداؤں کی ہیں مرے چار سو لگی

chillaa rahi hain jis pe zabaanein lahu lagi

غزل · Ghazal

نگاہ دل کے لئے جال کے مساوی ہے یہ آئینہ تری تمثال کے مساوی ہے گئے دنوں میں جسے بدترین کہتے تھے اب اچھا حال بھی اس حال کے مساوی ہے نظر جھکائے پڑا ہوں میں اپنے پاؤں میں یہ جا مرے لیے پاتال کے مساوی ہے قسم خدا کی کسی اور پر اگر گزرے یہ کیفیت کسی بھونچال کے مساوی ہے سمجھ سکیں تو یہ پل پل دھڑکتا دل اپنا شمار وقت کے گھڑیال کے مساوی ہے مرے سوال سے لے کر ترے جواب تلک ذرا سا وقفہ کئی سال کے مساوی ہے تمہاری یاد کی دستک ہماری دھڑکن پر تمہاری کی ہوئی مسکال کے مساوی ہے

nigaah dil ke liye jaal ke musaavi hai

Similar Poets