SHAWORDS
R

Rahman Jami

Rahman Jami

Rahman Jami

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

آگہی جس مقام پر ٹھہری وہ فقط میری رہ گزر ٹھہری جس گھڑی سامنا ہوا تیرا وہ گھڑی جیسے عمر بھر ٹھہری چل پڑا وقت جب ترے ہم راہ شام ٹھہری نہ پھر سحر ٹھہری ہر ملاقات پر ہوا محسوس یہ ملاقات مختصر ٹھہری میرے گھر آئی تھی خوشی لیکن جا کے مہمان تیرے گھر ٹھہری ہر حسیں سے گزر گئی جامیؔ آئنے پر مری نظر ٹھہری

aagahi jis maqaam par Thahri

1 views

غزل · Ghazal

صبر کرتا ہوں تو احساس زیاں بولتا ہے چپ جو رہتا ہوں تو پھر سارا جہاں بولتا ہے خاک ہونے کو ہے اب دل کی خبر بھی لے لو دل سے اٹھتا ہوا آہوں کا دھواں بولتا ہے سن کے ہوتا ہوں سبک سیر کہ وہ شوخ کبھی لفظ ارزاں ہیں تو چن چن کے گراں بولتا ہے تیرے بارے میں سب انجان ہوئے جاتے ہیں پوچھتا ہوں تو کوئی آ کے کہاں بولتا ہے اوڑھ لیتا ہے یقیں مصلحتاً چپ کا لحاف اس گھڑی سچ کی ہر اک بات گماں بولتا ہے گفتگو سنتا ہوں تیری ہی یہاں شام و سحر کچھ نہ کچھ مجھ سے ترا خالی مکاں بولتا ہے چاندنی میں جو کبھی آنکھ مچولی سے رچی تو کہاں ہے ترا ایک ایک نشاں بولتا ہے مل کے مسرور ہوا آج بہت جامیؔ سے وہ بھی میری ہی طرح اردو زباں بولتا ہے

sabr kartaa huun to ehsaas ziyaan boltaa hai

غزل · Ghazal

تمہاری یاد جو آئی تو دے کے آہ گئی بنا کے درد کو اپنا یہاں گواہ گئی پلٹ کے آؤ گے تم اس لئے بہ حسرت و یاس تمہارے پیچھے بڑی دور تک نگاہ گئی ملا کے چھوڑ دیا آخرش محبت نے تمہارے گھر ہی گئی جو ہماری راہ گئی وہ آرزو جو دبے پاؤں آئی تھی دل میں بنا کے مجھ کو مرے دل کا بادشاہ گئی نہ چھوڑا ہم کو کہیں کا تمہاری الفت نے جدائی دے کے قیامت کا انتباہ گئی یہ سچ ہے ہم نے بھی اکثر نباہی ہے اس سے ہمارے ساتھ بھی یہ زندگی نباہ گئی وہ ایک لڑکی سمجھتے تھے نا سمجھ جس کو ہمارے شعر پہ وہ کر کے واہ واہ گئی ملی تھی راہ میں رسوائی جو ہمیں جامیؔ جدا ہوئی تو خوشی دے کے بے پناہ گئی

tumhaari yaad jo aai to de ke aah gai

غزل · Ghazal

مرکز دہر ذات میری ہے رشک دنیا حیات میری ہے یہ زمیں یہ فلک یہ بحر و بر یہ حسیں کائنات میری ہے میری خاطر نکلتا ہے سورج دن ہے میرا یہ رات میری ہے ورق گل پہ شعر ہیں میرے بات بھی پات پات میری ہے سچ کی صورت کہی ہے جس نے بھی سچ تو یہ ہے وہ بات میری ہے کیا ہوا اگر نہیں مرا قبضہ پھر بھی کل کائنات میری ہے تیری قسمت ہو یا مری جامیؔ جو بھی ہے تیرے ساتھ میری ہے

markaz-e-dahr zaat meri hai

غزل · Ghazal

آدم ہے نہ حوا ہے زماں ہے نہ زمیں ہے وہ کون ہے جو کن میں مگر پردہ نشیں ہے مانا کہ نہیں ہوں ترے الطاف کے قابل تو پھر بھی مرے حال سے غافل تو نہیں ہے بندہ ہوں ترا غیب پہ ایمان ہے میرا اوروں کو نہ ہو مجھ کو مگر تیرا یقیں ہے شاہوں کے بھی تاجوں کو لگا دیتا ہے ٹھوکر یہ بندۂ نا چیز جو اک خاک نشیں ہے تھا ہند کی جانب مرے آقا کا اشارہ خوشبوئے محبت تو ہمیشہ سے یہیں ہے مانا کہ مرا لٹ گیا سرمایہ خوشی کا اک درد کی دولت تو ابھی میرے قریں ہے احباب کے برتاؤ کو میں کیسے بھلاؤں بیکار تسلی گئی دل پھر بھی حزیں ہے آسان نہیں راہ وفا دیکھ کے جامیؔ تکلیف کہیں بھوک کہیں پیاس کہیں ہے

aadam hai na havvaa hai zamaan hai na zamin hai

غزل · Ghazal

صرف باتوں سے بہل جانے کا قائل تو نہیں دل مرا سادہ ہے احساس سے غافل تو نہیں وار کرتا ہے نظر سے یہی قاتل تو نہیں چوٹ کھا کر جو تڑپتا ہے مرا دل تو نہیں شور و غل بڑھتا ہی جاتا ہے مرے کانوں میں دل میں جو ہے وہی طوفاں لب ساحل تو نہیں قافلے والوں نے بستر جہاں اپنے کھولے سچ تو یہ ہے وہ مرے نام کی منزل تو نہیں سامنا ہو تو پتہ بھی چلے پھر کون ہے کیا میں نے مانا کہ کوئی میرے مقابل تو نہیں محفلیں اور بھی ہیں حسن و ادا کی لیکن تیری محفل کی طرح اب کوئی محفل تو نہیں ہم تو تیار ہیں اک حشر اٹھانے کے لئے آپ خود ہی کسی طوفان سے غافل تو نہیں دور ہی سے نظر آ جاتا ہے جامیؔ تیرا بھیڑ میں رہ کے بھی وہ بھیڑ میں شامل تو نہیں

sirf baaton se bahal jaane kaa qaail to nahin

Similar Poets