SHAWORDS
Rahmat Amrohvi

Rahmat Amrohvi

Rahmat Amrohvi

Rahmat Amrohvi

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

حادثوں ہی میں زندگی جی ہے ہم نے قسطوں میں خودکشی کی ہے جھک کے جینا ہمیں نہیں آتا اور آواز بھی کچھ اونچی ہے آپ سے کچھ گلا نہیں صاحب اپنی تقدیر ہی کچھ ایسی ہے شعر پڑھنا یہاں سنبھل کے میاں اور بستی نہیں یہ دلی ہے چہرہ اس کا کتاب جیسا ہے اور رنگت گلاب کی سی ہے ہم نے رحمتؔ غزل کے لہجے میں میرؔ صاحب سے گفتگو کی ہے

haadson hi mein zindagi ji hai

غزل · Ghazal

ان کے سوا کسی کو نہ دیکھا کریں گے ہم آئینۂ نظر کو نہ میلا کریں گے ہم لو غم کی زندگی بھی ہمیں راس آ گئی لو اب کبھی نہ آپ سے شکوہ کریں گے ہم چرکے بہت دئے ہیں وفاؤں کے رنگ میں اپنوں پہ اب کبھی نہ بھروسہ کریں گے ہم رسوائیوں کے خوف سے آنسو بھی پی گئے یہ کس نے کہہ دیا تمہیں رسوا کریں گے ہم ہم کو تو اے خدا تری رحمت پہ ناز ہے عصیاں کریں گے ہم کبھی توبہ کریں گے ہم

un ke sivaa kisi ko na dekhaa kareinge ham

غزل · Ghazal

زندگی ہی سے گزر جائیں گے تجھ سے بچھڑیں گے تو مر جائیں گے خشک پتے ہیں ہوا کیا دیں گے ٹھیس لگتے ہی بکھر جائیں گے صبح نکلے ہیں جو اپنے گھر سے کیا خبر شام کو گھر جائیں گے اب شکستہ ہے کتاب ہستی اب یہ اوراق بکھر جائیں گے مر کے بھی مر نہیں سکتے رحمتؔ ہم کتابوں میں بکھر جائیں گے

zindagi hi se guzar jaaeinge

غزل · Ghazal

محبت زندگی کی اک کڑی ہے مگر اس راہ میں مشکل بڑی ہے کبھی ہونٹوں پہ رقصاں ہے تبسم کبھی آنکھوں سے ساون کی جھڑی ہے تمہارا ذکر تھا اور آ گئے تم تمہاری عمر بھی کتنی بڑی ہے کہیں تو مل ہی جائے گا ٹھکانہ ارے اتنی بڑی دنیا پڑی ہے غزل اور تنگ دامانی کا شکوہ سلیقہ ہو تو گنجائش بڑی ہے نہ آنے دی وفا پر آنچ ہم نے مگر قیمت بہت دینی پڑی ہے تمہارا غم تمہارا غم ہے رحمتؔ کوئی بانٹے کسی کو کیا پڑی ہے

mohabbat zindagi ki ik kaDi hai

غزل · Ghazal

آرزوؤں کا نگر چھوڑ آئے ناز تھا جس پہ وہ گھر چھوڑ آئے اک تری یاد بچا کر رکھ لی سارا سامان سفر چھوڑ آئے مدتوں یاد رکھے گی دنیا ہم بھی اک ایسا ہنر چھوڑ آئے گھر کے باہر بھی اداسی نہ گئی گھر سے گھبرا کے جو گھر چھوڑ آئے تھک گئے جب کوئی کھڑکی نہ کھلی ہم وہیں دیدۂ تر چھوڑ آئے اس کو آتے ہی بنے گی رحمتؔ آج اک ایسی خبر چھوڑ آئے

aarzuon kaa nagar chhoD aae

غزل · Ghazal

تنہا کس طرح جیا جائے یہ اب سوچتے ہیں شہر میں کس سے ملا جائے یہ اب سوچتے ہیں جانی پہچانی سبھی صورتیں خاموش ہوئیں حال دل کس سے کہا جائے یہ اب سوچتے ہیں کوئی مقصد نہ کوئی راہ نہ کوئی منزل اس طرح کیسے جیا جائے یہ اب سوچتے ہیں شہر میں کوئی بھی ہنگامہ نہیں اب کے برس کوئی الزام لیا جائے یہ اب سوچتے ہیں ایک چوراہے پہ خاموش کھڑے ہیں رحمتؔ کون سی سمت چلا جائے یہ اب سوچتے ہیں

tanhaa kis tarah jiyaa jaae ye ab sochte hain

Similar Poets