
Rajat Gupta Ahd
Rajat Gupta Ahd
Rajat Gupta Ahd
Ghazalغزل
gum gayaa ho kahin aisaa nahin hai
گم گیا ہو کہیں ایسا نہیں ہے وقت پھر بھی مجھے ملتا نہیں ہے چھوڑ دیتا ہے مجھے منزل پر راستہ ساتھ یہ رکتا نہیں ہے کل دعا میں تجھے مانگا تھا مگر پوری ہوگی دعا لگتا نہیں ہے اس میں اچھا نہیں دکھتا ہوں میں آئنہ وہ ترے جیسا نہیں ہے گر محبت ہے تو پھر یہ نہ کہو وہ ہے ایسا یا وہ ویسا نہیں ہے احدؔ مت دو ابھی کل کے وعدے ابھی کل میں مجھے جینا نہیں ہے
jaane kaisaa hai zindagi kaa safar
جانے کیسا ہے زندگی کا سفر آگہی کا یا بے خودی کا سفر خاک سے بن کے خاک ہو جانا دائرہ میں ہے ہر کسی کا سفر اتنا مشکل ہے جتنا لگتا تھا ہم کو آسان عاشقی کا سفر یہ پتنگے سے پوچھ کیسا تھا روشنی سے وہ شعلگی کا سفر گر کسی سے تمہیں محبت ہے سنگ اسی کے ہو بندگی کا سفر اجنبی جو تھے ہو گئے جگری کیا مزے کا ہے دوستی کا سفر ساتھ غافل نوا ازل سب ہے خوب ہے احدؔ شاعری کا سفر
kahaa khvaab ne main adhuraa rahungaa
کہا خواب نے میں ادھورا رہوں گا سحر تک مگر بس میں تیرا رہوں گا کہ جب تک رہے گی یوں کچی یہ مٹی میں ہر روز پیکر بدلتا رہوں گا ہو جائے نہ وہ بھی کہیں دور مجھ سے اگر اس کو میں اپنا کہتا رہوں گا کسی دن یہ سایہ بھی گل جانا ہے گر یوں ہی دھوپ میں میں جو چلتا رہوں گا مجھے عمر نے ہے ٹھگا کس طرح سے مجھے تو لگا تھا میں بچہ رہوں گا سفر زندگی کا تھکاتا بہت ہے میں ہر مرحلے پر ٹھہرتا رہوں گا محبت کا سودا ہے گھاٹے کا سودا مری ہو نہ ہو تو میں تیرا رہوں گا سنو احدؔ کوئی تخلص نہیں ہے میرا عہد ہے میں نبھاتا رہوں گا





