
Rajendra Kalkal
Rajendra Kalkal
Rajendra Kalkal
Ghazalغزل
دکھ سے غیروں کے پگھلتا کون ہے خود سے باہر اب نکلتا کون ہے برف سی تاثیر سب کی ہو گئی ظلم سہہ کر اب ابلتا کون ہے غیر کو ہی سب بدلنے میں رہے اپنی فطرت کو بدلتا کون ہے چھوڑ دو اس کو اسی کے حال پر عشق میں پڑ کر سنبھلتا کون ہے زندگی بھر جو نہ کھائے ٹھوکریں کھول کر آنکھیں یوں چلتا کون ہے دور مجھ سے ہو گیا بچپن مگر مجھ میں بچے سا مچلتا کون ہے خواہشوں پر قید کلکلؔ کیوں لگے عمر کے سانچے میں ڈھلتا کون ہے
dukh se ghairon ke pighaltaa kaun hai
1 views
مرے کہنے میں پٹواری نہیں ہے زمیں میری ہے سرکاری نہیں ہے سمندر تو ہوا کھاری تو کیسے ندی جب کوئی بھی کھاری نہیں ہے بھلے الزام خود پر لے لیا ہے مگر غلطی مری ساری نہیں ہے زمیں پر چاہے کچھ بن جا تو لیکن خدا بننا سمجھ داری نہیں ہے دکھاؤں تو ہنر کیسے میں کلکلؔ ابھی آئی مری باری نہیں ہے
mire kahne mein paTvaari nahin hai
خواب آنکھوں کو ہماری جو دکھائے آئنہ خون کے آنسو وہی ہم کو رلائے آئنہ آدمی کی فطرتیں جیسے سمجھتا ہو سبھی آدمی کے ساتھ ایسے مسکرائے آئنہ بانٹنا تو چاہتا ہے دکھ بزرگوں کے مگر جھریوں کو کس طرح ان کی چھپائے آئنہ آئنے کے سامنے سے کوئی تو ہٹتا نہیں اور کسی کو خواب تک یہ ڈرائے آئنہ غم نہیں بے شک بکھر جائے کسی دن ٹوٹ کر جھوٹ کے آگے نہ سر ہرگز جھکائے آئنہ بول کر سچ کون کتنے دن سلامت رہ سکا ڈر کے سائے میں حیات اپنی بتائے آئنہ وقت چہرے پر جب اس کے لکھ گیا ناکامیاں کیسے وہ دیوار پر کلکلؔ سجائے آئنہ
khvaab aankhon ko hamaari jo dikhaae aaina





