Rajesh Kumar Auj
Rajesh Kumar Auj
Rajesh Kumar Auj
Ghazalغزل
kashti to bhanvar mein hai lekin saahil ki tamanna karte hain
کشتی تو بھنور میں ہے لیکن ساحل کی تمنا کرتے ہیں صحرا میں بھٹکتے پھرتے ہیں منزل کی تمنا کرتے ہیں وہ جن میں وفا کا نام نہیں اخلاص سے ہیں جو بیگانہ بے مہر وہ کیسے ہم سے بھلا پھر دل کی تمنا کرتے ہیں دیوانے چلے جاتے ہیں ترے اپنی دھن میں بے سدھ ہو کر جب ہوش انہیں آتا ہے کبھی منزل کی تمنا کرتے ہیں جو عشق و وفا میں ڈوبا ہو دکھ درد جو اوروں کا سمجھے ہم تجھ سے خداوندا ایسے اک دل کی تمنا کرتے ہیں اے اوجؔ ہمارے عشق میں تو کچھ لوث نہیں خود غرضی کا ہیں اپنی غرض کے بندے جو حاصل کی تمنا کرتے ہیں
rah ke gulshan mein bhi tarse hain gul-e-tar ke liye
رہ کے گلشن میں بھی ترسے ہیں گل تر کے لئے یہ مقدر تھا تو کیا روئیں مقدر کے لئے دین و دنیا کا بھلا ہوش رہے گا کس کو آپ پہلو میں تو آئیں مرے پل بھر کے لئے صرف اک درد محبت ہی کا رونا تو نہیں لوگ پھرتے ہیں پریشان مرے سر کے لئے ذات سے ان کی ہے وابستہ مرا دل ایسے جیسے دیوار ضروری ہے کسی در کے لئے داغ دل ایسا جلا ہجر کی راتوں میں نہ پوچھ شمع اس طور نہ جل پائے گی دم بھر کے لئے تو نہ آئے ترا پیغام ہی آئے تو سہی کچھ تو سامان سکوں ہو دل مضطر کے لئے حسن زیور کا بھلا اوجؔ کہاں ہے محتاج غازہ لازم تو نہیں ہے رخ انور کے لئے
zindagi mushkil kabhi aisi na thi
زندگی مشکل کبھی ایسی نہ تھی اور دل کو بے دلی ایسی نہ تھی ہم نے سمجھا تھا نہ جب تک رمز شوق دل کی آوارہ روی ایسی نہ تھی بام پر جب تک کہ تم آئے نہ تھے بام و در پر روشنی ایسی نہ تھی جب تلک حاصل نہ تھا تیرا نیاز اپنی شان بندگی ایسی نہ تھی مٹ چکا ہے اس زمانہ سے خلوص اس کی پہلے تو کمی ایسی نہ تھی ہم پہنچ جاتے سر منزل مگر راہ بر کی رہبری ایسی نہ تھی آپ جب تک سامنے آئے نہ تھے ہم پہ طاری بے خودی ایسی نہ تھی جب تلک پہلو میں وہ آئے نہ تھے لذت ہمسائیگی ایسی نہ تھی وہ حسیں ہے اوجؔ ہر محفل کی جان اس میں پہلے دل کشی ایسی نہ تھی





