
Ram Parkash Rahi
Ram Parkash Rahi
Ram Parkash Rahi
Ghazalغزل
uDi uDi chehre ki rangat aankhon mein hairaani hai
اڑی اڑی چہرے کی رنگت آنکھوں میں حیرانی ہے حرف حرف ان عنوانوں میں دل کی رام کہانی ہے چھم چھم برسے بہتا جائے یہ بھی بتاؤ ایسا کیوں آنکھوں سے جو چھلک رہا ہے تم کہتے ہو پانی ہے سوچ وہی سنکوچ میں گم صم آس وہی موہوم افق انہونی کے رنگ اگلتی یہ کس کی من مانی ہے بھیڑ بھنور ہے پہچانوں کا دنیا کے اس ریلے میں ہر چہرہ ہے اکھڑا اکھڑا ہر صورت انجانی ہے حسن کے پیکر ڈھلے ہوئے ہیں راہیؔ کس پیرائے میں دیکھو تو تہذیب کی چادر سوچو تو عریانی ہے
kis ne kahaa thaa shahr mein aa kar aankh laDaao divaaron se
کس نے کہا تھا شہر میں آ کر آنکھ لڑاؤ دیواروں سے سایہ سایہ بھٹک بھٹک اب سر ٹکراؤ دیواروں سے گھات کی پلکیں جھپک رہے ہیں کھل کھل کر انجان دریچے زخموں کے اب پھول سمیٹو پتھر کھاؤ دیواروں سے قطع نظر کے بعد بھی اکثر بڑھ جاتی ہے دل کی دھڑکن آنکھ اٹھائے کیا بنتا ہے دل ہی اٹھاؤ دیواروں سے رستوں کی تہذیب یہی ہے دائیں بائیں چھوڑ کے چلنا سیدھے ہی گھر جانا ہے تو منہ نہ لگاؤ دیواروں سے سوچ گھٹن میں ڈوب نہ جائے توڑو یہ سنکوچ کے گھیرے کھلی ہوا میں پر پھیلاؤ جان بچاؤ دیواروں سے لمس کی لذت نرمی سختی دونوں کا گڈمڈ رشتہ ہے پاس ہی آ کر تم سمجھو گے دور نہ جاؤ دیواروں سے یہ بھی کیسی ریت سمے کی بنیادوں سے محرابوں تک خون کے ناطے سب کچھ دے کر کچھ بھی نہ پاؤ دیواروں سے
tumhaari be-niyaazi to hamaari bebasi laazim
تمہاری بے نیازی تو ہماری بے بسی لازم اگر تم ہی نہیں سنتے تو اپنی خامشی لازم زبان حال کیا بولے سرشک زخم کیا ٹپکے یہاں خاموشیوں پر بھی ہے اکثر خامشی لازم منازل عمر کی ظاہر مآل زندگی لازم جنوں کی سر خوشی بہتر سرور مے کشی لازم جمال ذات واحد کی کئی سانچوں میں ڈھل ڈھل کے بتوں تک بات پہنچی ہے تو ان کی بندگی لازم سکون و عافیت کے شہر ہیں گمنام ویرانے مگر ان تک پہنچنے کے لئے آوارگی لازم شعور ظرف میں آ کر سراپا ظرف ہوں راہیؔ نظر تشنہ ہے لب تشنہ تو دل کی تشنگی لازم
saae se hausle ke bidakte hain raaste
سائے سے حوصلے کے بدکتے ہیں راستے آگے بڑھوں تو پیچھے سرکتے ہیں راستے آنسو ہزار ٹوٹ کے برسیں تو پی کے چپ اک قہقہہ اڑے تو کھنکتے ہیں راستے سمجھو تو گھر سے گھر کا تعلق انہی سے ہے دیکھو تو بے مقام بھٹکتے ہیں راستے دامن میں ان کے پاؤں کے ایسے نشاں بھی ہیں رہ رہ کے جن کے دم سے دمکتے ہیں راستے تاروں کی چھاؤں نرم ہے سن لیتی ہے پکار دن بھر کی دھوپ میں جو بلکتے ہیں راستے راہے چلیں جو ہم تو چلے آئیں یہ بھی ساتھ قدموں کی پیٹھ پر ہی ٹھٹکتے ہیں راستے
subh hoti hai to phir shaam se ji Dartaa hai
صبح ہوتی ہے تو پھر شام سے جی ڈرتا ہے اف یہ آغاز کہ انجام سے جی ڈرتا ہے نہ علامت ہے نہ تشخیص نہ چارہ جس کا جانے کس رنجش بے نام سے جی ڈرتا ہے جرأت شوق کو کچھ ایسے ڈسا ہے غم نے آج مے خانے کے ہر جام سے جی ڈرتا ہے ڈھل گیا خوف خدا حسن بتاں میں شاید ورنہ کیوں صورت اصنام سے جی ڈرتا ہے زلف بردوش یہ چہرے مجھے معذور رکھیں دھوپ اور چھاؤں کے اس دام سے جی ڈرتا ہے مرتکب جرم محبت کے ہوئے کچھ ایسے اب نہ الزام نہ دشنام سے جی ڈرتا ہے کوئی لکھے نہ پکارے مجھے راہیؔ کہہ کر دوستو اب مرا اس نام سے جی ڈرتا ہے
anaa ki oT mein aafaaqiyat kaa raaz huun main
انا کی اوٹ میں آفاقیت کا راز ہوں میں ترے وجود کا منہ بولتا جواز ہوں میں ستم ظریف تناسخ بھی میرے پیچھے ہے یہی نہیں کہ عناصر کی ساز باز ہوں میں نہ میرا نور نہ سایہ نہ میرا خم نہ محیط نشیب وقت میں ڈوبا ہوا فراز ہوں میں مری شکست کی آواز بس یہی یعنی ہوا کے دوش پہ لرزاں سکوت ساز ہوں میں میں سلسلہ ہوں تمدن کی دھوپ چھاؤں کا کہ ہست و نیست کے مابین اک محاذ ہوں میں تھکی تھکی سی سر راہ انتظار کی آنکھ وہی سوال کا عقدہ کہ نیم باز ہوں میں حیات خیمۂ منعم ہے جس کے دم خم سے اسی چراغ کا بے ساختہ گداز ہوں میں نگاہ شعر ہے راہیؔ وہ آئنہ جس میں نظر نظر ہے تو اک عکس امتیاز ہوں میں





