SHAWORDS
Rana Abdurrab

Rana Abdurrab

Rana Abdurrab

Rana Abdurrab

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

tujh ko kyaa batlaaun kaun se achchhe hain

تجھ کو کیا بتلاؤں کون سے اچھے ہیں تیرے قرب کے سارے لمحے اچھے ہیں تجھ کو دیکھے بن جو تجھ کو دیکھتے ہیں دیکھنے والوں سے وہ اندھے اچھے ہیں تیری اک تصویر ہے سارے کمروں میں میرے گھر کے سارے کمرے اچھے ہیں تجھ کو دیکھنے والی آنکھیں چوموں گا تیری باتیں کرنے والے اچھے ہیں تو نے جس میسج میں پیار جتایا تھا سارے میسج اس کے جیسے اچھے ہیں جب تیری تصویر بناؤں تو مجھ کو لگتا ہے کہ سیل کے کیمرے اچھے ہیں وٹس اپ پر تو آن نظر آ جاتی ہے جھگڑے میں بھی اتنے رابطے اچھے ہیں تیری آنکھیں پیپر یار ریاضی کے دل تک دیکھنے والے کلیے اچھے ہیں ہر میسج میں دل ہی بھیجا جاتا ہے باتوں سے تو یار اشارے اچھے ہیں

غزل · Ghazal

haathon se gir gai mire miTTi ki khair ho

ہاتھوں سے گر گئی مرے مٹی کی خیر ہو گھر میں ہی بیٹھی رہ گئی بیٹی کی خیر ہو ہاتھوں کے اوک میں مرے جلتا رہا چراغ آدھی ہتھیلی جل گئی آدھی کی خیر ہو بستی میں بانسری کی صدا جب سنائی دے بنجارے تو جیے تری ونجلی کی خیر ہو میں نے تو ایک شعر کہا حسن یار پر محفل میں جھومتی ہوئی لڑکی کی خیر ہو دل کے ہر ایک ساز پہ رقصاں ہیں دھڑکنیں تیری بھی خیر ہو تری مستی کی خیر ہو نکلی ہے دشت کو وہ پنہ کی ہی آس میں وحشت بھرے جہان میں سسکی کی خیر ہو اک وصل ایک ہجر ہے دلہن کی مانگ میں شہنائیوں میں دب چکی سسکی کی خیر ہو اس واسطے نہ مانگی کبھی اپنی خیر دوست میں چاہتا یہی تھا کہ بس تیری خیر ہو پالا ہے اس نے ماں کی طرح اپنی گود میں تیری بھی خیر ہو مری مٹی کی خیر ہو دم دم ہماری آنکھ سے ٹپکے شراب عشق آنکھوں نے دی دعا مرے ساقی کی خیر ہو عبدلؔ نصیب ہو اسے پھولوں کا اک جہاں ہاتھوں سے اڑنے والی بھی تتلی کی خیر ہو

غزل · Ghazal

aap se raabta nahin mire dost

آپ سے رابطہ نہیں مرے دوست سانس کا سلسلہ نہیں مرے دوست اپنی مرضی کی کھینچ لو تصویر زندگی کیمرہ نہیں مرے دوست دوست تو اور بھی ہزاروں ہیں کوئی بھی آپ سا نہیں مرے دوست تو نے دشمن سمجھ لیا مجھ کو میں نے کچھ بھی کہا نہیں مرے دوست بارہا تیرا مجھ سے مل جانا یہ کوئی حادثہ نہیں مرے دوست میں اسے بھول جاؤں پاگل ہو مفت کا مشورہ نہیں مرے دوست تو بہت دور ہے مگر پھر بھی یہ کوئی فاصلہ نہیں مرے دوست میں تری کال کاٹ دوں عبدلؔ مجھ میں یہ حوصلہ نہیں مرے دوست

غزل · Ghazal

mutmain huun main is khasaare par

مطمئن ہوں میں اس خسارے پر سب لٹایا ہے اپنے پیارے پر کس نے رکنا ہے کس نے جانا ہے منحصر ہے ترے اشارے پر اس کنارے پہ میں اکیلا ہوں کون ہے دوسرے کنارے پر تو پلٹ کر کبھی تو آئے گا جی رہے ہیں اسی سہارے پر کس لیے بد گمان ہوتے ہو نام لکھا ہے جب ستارے پر وہ قفس تو کبھی کھلا ہی نہیں ہم نے بے کار ہی سنوارے پر آنسوؤں کے نشان زندہ رہے ایک تصویر کے کنارے پر

غزل · Ghazal

mujh mohabbat ke sazaa-vaar pe tohmat na lagaa

مجھ محبت کے سزاوار پہ تہمت نہ لگا مجھ کو جھٹلا دے مگر پیار پہ تہمت نہ لگا سست رو شخص مرا نقش قدم دھیان میں رکھ مجھ سے آ مل مری رفتار پہ تہمت نہ لگا لوگ بکتے ہیں تو بکتے رہیں بے شک لیکن کم سے کم تو مرے کردار پہ تہمت نہ لگا میں نے چھینی نہیں عزت سے کمائی ہے یہ میری عزت مری دستار پہ تہمت نہ لگا دیکھ اک ہاتھ سے بجتی نہیں تالی عبدلؔ در مقفل ہے تو دیوار پہ تہمت نہ لگا

غزل · Ghazal

le kar hijr ki pahli talkhi chaltaa hai

لے کر ہجر کی پہلی تلخی چلتا ہے دیکھتے ہیں کہ کب تک فروری چلتا ہے میں کہتا ہوں تف ہے ایسے جینے پر سانس کا پہیہ تیرے بن بھی چلتا ہے اچھا تیرا رستہ دیکھنا ہے میں نے اچھا بندہ لے کر نوکری چلتا ہے اس کے قرب میں رہ کر جانا جھوٹ ہے یہ کھوٹا سکہ اک دن لازمی چلتا ہے تیرے آنے پر تو بارش آتی ہے سارا شہر ہی لے کر چھتری چلتا ہے جینے کو بھی جینا کہنا ٹھیک نہیں سانس کا چلنا بھی تو فرضی چلتا ہے چار دنوں میں تھک کر واپس جاتا ہے چار دنوں میں کتنا آدمی چلتا ہے پیدا ہونے والا موت کے دفتر سے لے کر اپنی قبر کی تختی چلتا ہے وقت کی زین پہ بیٹھنا عبدلؔ نا ممکن ہم کاہل ہیں اور یہ جلدی چلتا ہے

Similar Poets