SHAWORDS
R

Ranj Hyderabadi

Ranj Hyderabadi

Ranj Hyderabadi

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ملا ہوا کبھی سینے سے ان کے سینہ تھا عجب وہ روز تھے یا رب عجب مہینہ تھا عدم میں جا کے کہیں گے ہر ایک سے ہم بھی عبث فضول جہاں میں ہمارا جینا تھا دغا رقیب نے کی آپ سے تو کیا شکوہ زمانہ اس کو کہے گا کہ وہ کمینہ تھا یہ کیا کہ یوں ہی چلے میکدے سے حضرت شیخ تمہیں خدا کی قسم کوئی گھونٹ پینا تھا جو تم نے سینہ مرا چاک چاک کر ڈالا ہر ایک زخم کو تار نگہ سے سینا تھا مہک رہا تھا مرا گھر تمام وصل کی شب وہ عطر بیز کسی کا بھی کیا پسینا تھا نہیں ہے دل جو ہمارا تو شب کو محفل میں ذرا خیال کرو خود ہی کس نے چھینا تھا جو تم نے لیتے ہی جلدی سے اس کو توڑ دیا ہمارا دل تھا کوئی یا یہ آبگینہ تھا وہ رند ہوں کہ زباں پر بھی وقت مرگ مری صراحی و خم و جام و ایاغ و مینا تھا یہاں رہی کہ وہاں پہونچی رنجؔ کی میت زباں پہ اس کی مگر رات دن مدینہ تھا

milaa huaa kabhi siine se un ke siina thaa

غزل · Ghazal

دل مرا لے کے یہ کہتے ہیں کہ مال اچھا ہے منتیں خوب ہیں اور ان کا خیال اچھا ہے وہ عیادت کو مری آ کے یہ فرماتے ہیں شکر صد شکر کہ بیمار کا حال اچھا ہے میں یہ کہتا ہوں کہ آغاز محبت ہے خراب وہ یہ کہتے ہیں کہ محبت کا مآل اچھا ہے ساتھ یوسف کے تجھے مصر میں گر لے جاتے انگلیاں تیری طرف اٹھتیں یہ مال اچھا ہے تیری صورت سے میں دوں کیا مہ کامل کو مثال اس سے سو درجہ ترا حسن و جمال اچھا ہے دل کو دزدیدہ نگاہوں سے چرا لے جانا تم میں اتنا ہی مری جان کمال اچھا ہے وہ عیادت کے لئے غیر کے گھر جاتے ہیں ہم مرے جاتے ہیں کمبخت کا حال اچھا ہے ٹوٹ جانے کا نہ کچھ رنج نہ کھو جانے کا ہم غریبوں کا یہی جام سفال اچھا ہے اپنی قسمت میں کہاں راحت و آرام نشاط رنجؔ دنیا میں یہی ہم کو ملال اچھا ہے

dil miraa le ke ye kahte hain ki maal achchhaa hai

غزل · Ghazal

کون کہتا ہے یار نے مارا یار کے انتظار نے مارا کچھ ترے انتظار نے مارا کچھ دل بے قرار نے مارا باتوں باتوں میں دل کو لے ہی گیا مجھ کو ظالم کے پیار نے مارا ہو پیالے میں قل کے بادۂ ناب مجھ کو اک بادہ خوار نے مارا نگہ ناز نے اگر چھوڑا تیغ ابروئے یار نے مارا اس نے وعدہ کیا قیامت کا مجھ کو اس انتظار نے مارا رنجؔ دنیا نے شیخ کو مجھ کو غم روز شمار نے مارا وصل میں غیر کا گلہ کیا خوب مجھ کو در پردہ یار نے مارا سر محفل لٹا لٹا کے مجھے شوخیٔ چشم یار نے مارا ابھی مرتا نہ میں مجھے اے رنجؔ آفت روزگار نے مارا

kaun kahtaa hai yaar ne maaraa

غزل · Ghazal

عشق میں دوستو مزا بھی ہے سخت آفت بھی ہے بلا بھی ہے بوسہ تو مل چکا مجھے سرکار میری اک اور التجا بھی ہے مجھ سا عاشق کہو خدا کی قسم کوئی دنیا میں دوسرا بھی ہے وعدہ کر کے بتو نہ ہم سے پھرو کچھ تو دل میں ڈرو خدا بھی ہے تیرے اس جور کی ہے کچھ حد بھی اس ستم کی کچھ انتہا بھی ہے آج جاتا ہوں اس کے کوچے کو ساتھ میرے مری قضا بھی ہے مجھ سے کہتے ہیں اب ترے دل میں اور کوئی مرے سوا بھی ہے ایسے معشوق ہوتے ہیں کم یاب با وفا بھی وہ با حیا بھی ہے میں نے چھیڑا جو بزم میں تو کہا بے حیا تجھ کو کچھ حیا بھی ہے سچ کہو رنجؔ سا کوئی شاعر حیدرآباد میں ہوا بھی ہے

ishq mein dosto mazaa bhi hai

غزل · Ghazal

نہ بھولنا مجھے دل سے مری خبر لینا جو یاد آؤں کبھی میں تو یاد کر لینا ہوئے ہیں خبط میں کیا مبتلا ترے عاشق ضرور کیا ہے کہ دل دے کے درد سر لینا وہ سب سے کہنے لگے تاک کر مرے دل کو کسی طرح بھی ہے لینا اسے مگر لینا شب وصال کی وہ شرم یاد آتی ہے حیا سے منہ پہ دوپٹے کو اپنے دھر لینا انہیں منا کے خوشامد سے التجاؤں سے کسی طرح سے جواب اے پیامبر لینا وہ آ کے لیٹے جو پہلو میں میرے وصل کی شب کہا یہ دل نے مرے خواب رات بھر لینا ہمارے دل کے خریدار اور بھی ہیں بہت نہ دیر کیجئے منظور ہے اگر لینا جسے وہ چاہیں بڑھائیں جسے وہ چاہیں گھٹائیں یہ ان کا کھیل ہے دشمن کو دوست کر لینا دکھا دکھا کے نہ تم اور مجھ کو ترساؤ میں مر گیا تو مرے بعد بن سنور لینا ملا کے خاک میں دل کو وہ میرے کہتے ہیں یہ جس قدر ہوا نقصان ہم سے بھر لینا جو تم میں ہے یہ کمال اور کو نصیب کہاں دکھا کے جلوہ ہر اک کو غلام کر لینا ہوا جو قطع تعلق تو کیا غرض اس سے نہ آپ رنجؔ کا اب نام عمر بھر لینا

na bhulnaa mujhe dil se miri khabar lenaa

Similar Poets