Raoof Anjum
وفا کے نام پہ زہراب ایک اور سہی بکھر گئے ہیں کئی خواب ایک اور سہی بجھے بجھے کئی منظر ہیں دیدۂ تر میں یہ ڈوبتا ہوا مہتاب ایک اور سہی جلا کے ایک دیا ہم نے اور دیکھ لیا دھواں دھواں سی یہ محراب ایک اور سہی لگی ہے بھیڑ سفینہ ڈبونے والوں کی تماشہ کوئی سر آب ایک اور سہی تمہارے بعد ہر اک شے خفا ہی تھی ہم سے یہ بے نیازیٔ احباب ایک اور سہی تکلفات سے بھی لوگ کام لیتے ہیں خفا جو ہے اسے آداب ایک اور سہی کبھی تو آئے گا اس کو رؤفؔ اپنا خیال شکایت دل بے تاب ایک اور سہی
vafaa ke naam pe zahraab ek aur sahi