
Rasheed Qaisrani
Rasheed Qaisrani
Rasheed Qaisrani
Ghazalغزل
یہ زاویہ سورج کا بدل جائے گا سائیں سایہ ہے مگر سایہ تو ڈھل جائے گا سائیں خود آپ کے ہاتھوں کا تراشا ہوا لمحہ خود آپ کے ہاتھوں سے پھسل جائے گا سائیں یہ برف بدن آپ کا اور موم کا مسکن اس دھوپ نگر میں تو پگھل جائے گا سائیں ساحل نہ رہے گا تہی داماں کہ سمندر اک دن کوئی موتی بھی اگل جائے گا سائیں جو راکھ ہوا جسم وہ لو دینے لگے گا جو دیپ بجھایا ہے وہ جل جائے گا سائیں اس شہر دل آویز میں دل والوں کا سکہ پہلے بھی چلا آج بھی چل جائے گا سائیں منزل ہی تری یار رشیدؔ اور نہیں ہے تو جب بھی گیا چاند محل جائے گا سائیں
ye zaaviya suraj kaa badal jaaegaa saain
صدیوں سے میں اس آنکھ کی پتلی میں چھپا تھا پلکوں پہ اگر مجھ کو سجا لیتے تو کیا تھا تو پھیل گیا تا بہ ابد مجھ سے بچھڑ کر میں جسم کے زنداں میں تجھے ڈھونڈ رہا تھا ہاں مجھ کو ترے سرخ کجاوے کی قسم ہے اس راہ میں پہلے کوئی گھنگرو نہ بجا تھا گزرے تھے مرے سامنے تم دوش ہوا پر میں دور کہیں ریت کے ٹیلے پہ کھڑا تھا سینے میں ابھرتے ہوئے سورج کا تلاطم آنکھوں میں تری ڈوبتی راتوں کا نشہ تھا گزرا نہ ادھر سے کوئی پتھر کا پجاری مدت سے میں اس راہ کے ماتھے پہ سجا تھا جب وقت کی دہلیز پہ شب کانپ رہی تھی شعلہ سا مرے جسم کے آنگن سے اٹھا تھا اب جانیے کیا نقش ہواؤں نے بنائے اس ریت پہ میں نے تو ترا نام لکھا تھا اے دیدۂ حیراں تو ذرا اور قریب آ اے ڈھونڈنے والے میں تجھے ڈھونڈ رہا تھا اچھا ہے رشیدؔ آنکھ بھر آئی ہے کسی کی اس خشک سمندر میں تو میں ڈوب چلا تھا
sadiyon se main is aankh ki putli mein chhupaa thaa
دیپ سے دیپ جلاؤ تو کوئی بات بنے گیت پر گیت سناؤ تو کوئی بات بنے قطرہ قطرہ نہ پکارو مجھے بہتی ندیوں موج در موج بلاؤ تو کوئی بات بنے رات اندھی ہے گزر جائے گی چپکے چپکے جال کرنوں کا بچھاؤ تو کوئی بات بنے سامنے اپنے ہی خاموش کھڑا ہوں کب سے درمیاں تم بھی جو آؤ تو کوئی بات بنے داستاں چاند ستاروں کی سنانے والو تم مرا کھوج لگاؤ تو کوئی بات بنے منتظر میں تو بہ ہر گام ہوں ساحل کی طرح صورت موج تم آؤ تو کوئی بات بنے جھانکتا کون ہے اب دل کے شگافوں میں رشیدؔ زخم چہرے پہ سجاؤ تو کوئی بات بنے
diip se diip jalaao to koi baat bane
میرے لیے تو حرف دعا ہو گیا وہ شخص سارے دکھوں کی جیسے دوا ہو گیا وہ شخص میں آسماں پہ تھا تو زمیں کی کشش تھا وہ اترا زمین پر تو ہوا ہو گیا وہ شخص سوچوں بھی اب اسے تو تخیل کے پر جلیں مجھ سے جدا ہوا تو خدا ہو گیا وہ شخص سب اشک پی گیا مرے اندر کا آدمی میں خشک ہو گیا ہوں ہرا ہو گیا وہ شخص میں اس کا ہاتھ دیکھ رہا تھا کہ دفعتاً سمٹا سمٹ کے رنگ حنا ہو گیا وہ شخص یوں بھی نہیں کہ پاس ہے میرے وہ ہم نفس یہ بھی غلط کہ مجھ سے جدا ہو گیا وہ شخص پڑھتا تھا میں نماز سمجھ کر اسے رشیدؔ پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا وہ شخص
mere liye to harf-e-duaa ho gayaa vo shakhs
کچھ سائے سے ہر لحظہ کسی سمت رواں ہیں اس شہر میں ورنہ نہ مکیں ہیں نہ مکاں ہیں ہم خود سے جدا ہو کے تجھے ڈھونڈنے نکلے بکھرے ہیں اب ایسے کہ یہاں ہیں نہ وہاں ہیں جاتی ہیں ترے گھر کو سبھی شہر کی سڑکیں لگتا ہے کہ سب لوگ تری سمت رواں ہیں اے موجۂ آوارہ کبھی ہم سے بھی ٹکرا اک عمر سے ہم بھی سر ساحل نگراں ہیں تو ڈھونڈ ہمیں وقت کی دیوار کے اس پار ہم دور بہت دور کی منزل کا نشاں ہیں سمٹے تھے کبھی ہم تو سمائے سر مژگاں پھیلے ہیں اب ایسے کہ کراں تا بہ کراں ہیں اک دن ترے آنچل کی ہوا بن کے اڑے تھے اس دن سے زمانے کی نگاہوں سے نہاں ہیں توڑو نہ ہمارے لیے آواز کا آہنگ ہم لوگ تو اک ڈوبتے لمحے کی فغاں ہیں
kuchh saae se har lahza kisi samt ravaan hain
میں نے کہیں تھیں آپ سے باتیں بھلی بھلی رسوا کیا ہے آپ نے مجھ کو گلی گلی میں نے کہا نہیں تھا کہ شعلہ بدن ہیں لوگ اب کیوں دکھا رہے ہو ہتھیلی جلی جلی گلشن میں جو چلی ہے ہوا کتنی تیز ہے بکھری پڑی ہے شاخ سے کٹ کر کلی کلی ایک اور شب کی راہ میں آنکھیں بچھائیے یہ شب بہ صورت شب رفتہ ڈھلی ڈھلی کیسے سرک سرک کے بھری گاگریں گریں جب میرے ساتھ ساتھ کوئی منچلی چلی میں نے غزل سنائی تو اک اہل دل رشیدؔ سینے پہ ہاتھ رکھ کے پکارا ولی ولی
main ne kahin thiin aap se baatein bhali bhali





