SHAWORDS
Rasheeda Ayan

Rasheeda Ayan

Rasheeda Ayan

Rasheeda Ayan

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

بیٹھے بیٹھے مسکرا دی خود ہی گھبرائی کبھی پیار کے موسم میں ایسی بھی گھڑی آئی کبھی آپ کا دامن تو ساحل ریت کا ثابت ہوا موج اشک خوں بھی جس کو تر نہ کر پائی کبھی اپنے سر لے کر زمانے بھر کی ساری تہمتیں دفن کر دی اپنی خاموشی میں گویائی کبھی ساتھ گزرے چند لمحوں کی سنہری یاد سے چلنے لگتی ہے مرے سانسوں میں پروائی کبھی زندگی بھر آپ اپنے آئنے میں گم رہے شخصیت یا شکل میری بھی نظر آئی کبھی چھوڑیئے یہ تو ہمارے پیار کا ہے معجزہ دور اب سے آپ بھی ہوتے تھے ہرجائی کبھی اک کرن ہی چاند کی بن کر میں ہو جاتی نثار آرزو لیکن عیاںؔ اپنی نہ بر آئی کبھی

baiThe baiThe muskuraa di khud hi ghabraai kabhi

2 views

غزل · Ghazal

اسی کی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ اسی میں کھو گئی ہوں رفتہ رفتہ میں کشت زیست میں فصلوں کی صورت کچھ آنسو بو گئی ہوں رفتہ رفتہ گزاری ہیں ہزاروں دکھ کی راتیں بہادر ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ ستم سہہ کر رہی خاموش صدیوں وہ سمجھا سو گئی ہوں رفتہ رفتہ میں ہو کر بے خطا مجرم ہی ٹھہری تو باغی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ جفا خو سے وفائیں کرتے کرتے دوانی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ عیاںؔ پتھر کے سینے میں ٹھہر کر میں پانی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ

usi ki ho gai huun rafta rafta

1 views

غزل · Ghazal

رحل پہ ہاتھوں کی رکھ کر میں رخ کا صحیفہ سوچوں ہوں اور اگر کچھ بن نہیں پڑتا چپکے چپکے رو لوں ہوں موتی اشک ستارے آنسو زرداروں کی تشبیہات بھوک میں پلکوں پر گویا میں جوار کے دانے تولوں ہوں جب کوئی زردار ملے ہے راہ میں اپنی چال میں مست پتھر سے کیا ٹکرانا میں ایک کنارے ہو لوں ہوں ننھے ننھے ہاتھوں میں جب بھیک کا کاسہ دیکھوں میں دیر تلک میں ہاتھ سمیٹے خالی جیب ٹٹولوں ہوں سرسوں کے کھلیان پہ قابض اندھیاروں کے شاکی ہیں میں تو لہو کے دیپ جلا کر چین سے شب بھر سو لوں ہوں منعم جب تحقیر سے دیکھے میرے سوکھے سوکھے ہاتھ پونچھ کے پیشانی سے پسینہ اپنے ہاتھ بھگو لوں ہوں شعر کہاں یہ دل کے دروازے پر ہلکی دستک ہے ایک کنی الماس کی جس سے پتھر میں در کھولوں ہوں

rehl pe haathon ki rakh kar main rukh kaa sahifa sochun huun

1 views

غزل · Ghazal

مرے قلم کا اگر سر کبھی قلم ہوگا نیا فسانۂ درد و الم رقم ہوگا یہ مانتی ہوں مٹا دے گا میرا دور مجھے نئے زمانے کا اس خاک سے جنم ہوگا میں اپنے آپ کی پہچان بھول بیٹھی ہوں اب اس سے اور بڑا کیا کوئی ستم ہوگا نہ جانے کیوں مجھے سچ بولنے کی عادت ہے یہ جان کر کہ ہر اک گام سر قلم ہوگا چلو اٹھاتے ہیں ایوان وقت کا ملبہ اسی میں دفن مری ذات کا صنم ہوگا فلک نے موند لیں آنکھیں زمیں نے روکی سانس عیاںؔ کا آج نئی راہ پر قدم ہوگا

mire qalam kaa agar sar kabhi qalam hogaa

1 views

غزل · Ghazal

جن کی تعبیر نہ ہو خواب وہ آنے سے رہے یہ عذاب اب تو ہم آنکھوں میں بسانے سے رہے کھول ہی لیں گے فصیلوں میں نئے در ہم لوگ لاکھ محبوس سہی وقت گنوانے سے رہے اہل پندار ہیں دریوزہ گری کب ہے قبول بھیک لینے کو کسی در پہ تو جانے سے رہے ایک دن قید قفس توڑ کے اڑ جائیں گے قید میں رہ کے عبث شور مچانے سے رہے جاگ اٹھے ہیں تو اب جاگتے رہنا ہے ہمیں جاگتی آنکھوں میں اب خواب سجانے سے رہے دور ماضی کے کئی زخم ابھی تازہ ہیں اب کوئی دریا نیا دل میں بسانے سے رہے اس تلاطم میں بھی دھاروں کو نیا رخ دیں گے لہر کے دوش پہ ہم خود کو بہانے سے رہے کچھ عیاںؔ ہم بھی تو پندار وفا رکھتے ہیں بے سبب روٹھنے والوں کو منانے سے رہے

jin ki taabir na ho khvaab vo aane se rahe

1 views

Similar Poets