
Riaz Rahi
Riaz Rahi
Riaz Rahi
Ghazalغزل
دشت جنوں میں قیس کی تعظیم کی گئی ہر بات اہل عشق کی تسلیم کی گئی دل میں محبتیں تو دعائیں ہیں ہاتھ پر ہر دور میں فقیر کی تکریم کی گئی محنت کو بھوک ملتی ہے دولت کو ہر خوشی اسباب جاں کی کیسی یہ تقسیم کی گئی کیا کیا حیات و مرگ کے پیش آئے مرحلے تخریب کی گئی کبھی تنظیم کی گئی غیروں کے جارحانہ عزائم کے باوجود تسلیم میرے شعر کی اقلیم کی گئی حسن وجود زن کے کرشمے تو دیکھیے کیا خوب رنگ و نور کی تجسیم کی گئی زندان شب میں پھینکا گیا آفتاب کو آئین صبح میں کوئی ترمیم کی گئی راہیؔ عذاب آگہی مشکل تھا اس لیے دنیا میں جستجوئے زر و سیم کی گئی
dasht-e-junun mein qais ki taa'zim ki gai
کیا کروں چپ ہے فضا درد آشنا خاموش ہے ظلم ہے روئے زمیں پر اور خدا خاموش ہے راستے سنسان منزل دور رہبر سست رو دل گرفتہ راہ رو بانگ درا خاموش ہے عدل بہرہ ہے گواہان تماشہ زر خرید ظلم گویا ہے مگر دارالقضا خاموش ہے کوئی جگنو یا ستارا ہو تو کچھ امید ہو اب اندھیرے بڑھ رہے ہیں اور دیا خاموش ہے کیا قیامت ہے کہ چشم یار ہے بے سرمگیں دست و پا بے رنگ ہیں رنگ حنا خاموش ہے کوئی بھی اب برسر پیکار باطل سے نہیں شام کے بازار چپ ہیں کربلا خاموش ہے پیش بندی ہو رہی ہے پھر کسی طوفان کی حبس کا عالم ہے اور آب و ہوا خاموش ہے کیا کہوں راہیؔ کہ اپنی زیست لے آئی کہاں درد کا درماں نہیں دست دعا خاموش ہے
kyaa karun chup hai fazaa dard-aashnaa khaamosh hai
ان کی آنکھوں سے مے کشی کی ہے حالت اب اپنی بے خودی کی ہے اپنی قسمت میں رنج ہجر کہاں ہم نے انساں سے عاشقی کی ہے صبح ہنستے ہیں رات روتے ہیں ہم نے یوں اپنی زندگی کی ہے آشیاں بجلیوں کی زد میں ہے کس نے گلشن کی مخبری کی ہے کیا ڈرائے گا آسماں ہم کو بحر غم میں شناوری کی ہے کیا شکایت کریں کسی سے ہم ہم سے دنیا نے بے رخی کی ہے چپکے چپکے سے دل چرا لینا یہ ادا خاص دلبری کی ہے ہم کو آساں نہیں بھلا دینا خواب دیکھے ہیں شاعری کی ہے ظلم زندہ ہے عدل شرمندہ تم نے کیسی یہ منصفی کی ہے تم فقیروں کا حال کیا جانو تم نے تو صرف صاحبی کی ہے اب اندھیروں کا خوف کیا راہیؔ دل جلایا ہے روشنی کی ہے
un ki aankhon se mai-kashi ki hai
بولنا چاہیے جن کو وہ کہاں بولتے ہیں اب تو بس ظلم کے ہر سمت نشاں بولتے ہیں لفظ رسوا ہوں تو پھر اشک رواں بولتے ہیں کوچۂ یار میں یوں دل زدگاں بولتے ہیں صرف دشمن ہی نہیں رکھتے عداوت مجھ سے میرے یاروں کے بھی کچھ تیر و کماں بولتے ہیں ویسے چپ چاپ ہی رہتے ہیں تری بزم میں ہم بولتے ہیں تو محبت کی زباں بولتے ہیں آپ خاموش ہیں کیوں میری گواہی کے لیے میرے حق میں تو فلاں ابن فلاں بولتے ہیں آپ اک لفظ کہیں منبر و شاہی کے خلاف میری بابت تو بہت شعلہ بیاں بولتے ہیں سیل جمہور سے بچتا نہیں تخت شاہی جب کبھی تیغ بکف پیر و جواں بولتے ہیں آب و ناں کے لیے ناموس گنواتے ہیں جب مقتدر کے لیے پیران مغاں بولتے ہیں اپنے مقصد سے نہ غافل ہو کہ اس کا کیا غم یوں ہی بازار کے آوارہ سگاں بولتے ہیں برسر خاک بھی کچھ لطف ہو اے ابر کرم دشت و صحرا میں بہت تشنہ لباں بولتے ہیں یہ المناک فضا بھی ہے قیامت راہیؔ سب ہیں چپ چاپ مکیں اور مکاں بولتے ہیں
bolnaa chaahiye jin ko vo kahaan bolte hain
میں کیوں کہوں کسی سے ضرورت ہی کیوں نہ ہو دل اس سے بے نیاز ہے عسرت ہی کیوں نہ ہو مردم گزیدگی کا اثر ہے کہ آج تک ڈرتا ہوں میں فریب محبت ہی کیوں نہ ہو کیا کیا تعصبات ہیں دنیا میں جابجا تشویش دل فزوں ہے کہ ہجرت ہی کیوں نہ ہو ناکام آرزو ہے کوئی دل تو کیا ہوا تسکین جاں ہے کچھ تو وہ حسرت ہی کیوں نہ ہو گونجے گی اور تیشۂ مزدور کی صدا ہر چند اہل زر کی ملامت ہی کیوں نہ ہو مجھ کو نہیں قبول غلامی کا لفظ بھی خدمت گزار وقت کی اجرت ہی کیوں نہ ہو حسن خیال کے سوا بنتی ہے بات کب حسن بیان میں کوئی ندرت ہی کیوں نہ ہو بد خصلتی سے باز کب آتا ہے بد نہاد کم ظرف واماں بے ضمیر پہ لعنت ہی کیوں نہ ہو ہم بندگان خاک نشیں خاکسار ہیں اپنے لیے فضول ہے سطوت ہی کیوں نہ ہو فصل گل بہار کی خواہش تو کیجیے صحرائے زندگی میں سکونت ہی کیوں نہ ہو راہیؔ خلوص دل کے سوا ہاتھ کچھ نہ آئے دل میں درود ورد میں آیت ہی کیوں نہ ہو
main kyon kahun kisi se zarurat hi kyon na ho





