SHAWORDS
R

Rifat Al

Rifat Al

Rifat Al

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

مستانہ خوشبوؤں سے نہائے ہوئے بدن سر پر غلاظتوں کو اٹھائے ہوئے بدن بوسیدہ چیتھڑوں میں سر راہ دیکھیے زخموں کو مفلسی کے چھپائے ہوئے بدن شاہی حرم سراؤں میں پھولوں کی سیج پر ہیروں سے موتیوں سے سجائے ہوئے بدن کوٹھوں پہ زرد چہروں میں پژمردہ و اداس اہل ہوس کے ہاتھوں بٹھائے ہوئے بدن مصروف ذکر و فکر بصد عجز و انکسار رب کے حضور سر کو جھکائے ہوئے بدن

mastaana khushbuon se nahaae hue badan

1 views

غزل · Ghazal

زمیں پہ جن کو حجاب و حیا ضروری ہے غضب ہے ان کی حجاب و حیا سے دوری ہے انہیں کو ملتا ہے در سے حضور عالی کے لبوں پہ جن کے میاں آج جی حضوری ہے شجر شجر پہ چمن میں خزاں کے ڈیرے ہیں نہ برگ و گل نہ کہیں نغمۂ طیوری ہے شکم جو نان و نمک کے لئے ترستے ہیں نہ ان کی شب ہے سہانی نہ صبح نوری ہے دعائیں مانگنے والو فتوح و نصرت کی دعا کے ساتھ عمل بھی بہت ضروری ہے مرے رفیق سفر تو چلا گیا جب سے ترے بغیر مری زندگی ادھوری ہے انوکھی وضع ہے معصومیت بھی ہے رفعتؔ بتائیں کیا کہ مزاج ان کا لا شعوری ہے

zamin pe jin ko hijaab-o-hayaa zaruri hai

غزل · Ghazal

یاد جب گزری ہوئی شام کا منظر آیا لوٹ کر تارہ سا اک دل کے افق پر آیا آتش گل کو تو شبنم ہی سمجھ سکتی ہے تو گیا اور فقط سیر چمن کر آیا کھنچ گئی ذہن میں اک وہم و یقیں کی تصویر ہاتھ میں جب کسی فن کار کے پتھر آیا رخ پہ اک پھول کھلا آنکھ میں موتی چمکا نام جب میرا کبھی ان کے لبوں پر آیا چل گیا محفل خوباں میں غزل کا جادو تیرے لہجے کا جب انداز میسر آیا رند سب بھول گئے تشنہ لبی کا شکوہ چشم ساقی جو اٹھی دور میں ساغر آیا میرا غم کوئی بھی دنیا میں نہ سمجھا رفعتؔ گمرہی کا مگر الزام مرے سر آیا

yaad jab guzri hui shaam kaa manzar aayaa

غزل · Ghazal

نہیں ہیں دیر و حرم صاحب نظر کے لئے مچل رہی ہے جبیں تیرے سنگ در کے لئے ہمارے پاؤں کے بوسے لئے ستاروں نے تمہاری راہ میں نکلے جو ہم سفر کے لئے یہ کیسی انجمن ناز ہے کہ دیوانے ترس رہے ہیں قرار دل و نظر کے لئے صبا یہ کوچۂ جاناں میں جا کے کہہ دینا ذرا سی خاک ملے سرمۂ نظر کے لئے کسی کا سوز محبت فزوں رہے یا رب یہ اک چراغ ہی کافی ہے اپنے گھر کے لئے خوشا نصیب کہ وقف جنوں ہوا رفعتؔ نہیں ہے سر مرا اے دوست در بدر کے لئے

nahin hain dair-o-haram saahib-e-nazar ke liye

غزل · Ghazal

رہتی ہے یاد یار دل بے قرار میں ٹھہرا ہوا ہے جام کف رعشہ دار میں اتنا خلوص زاہد شب زندہ دار میں شاید کہ یہ نماز ہے حوروں کے پیار میں جیتے رہیں گے گردش لیل و نہار میں پیتے رہیں گے موسم نا سازگار میں زاہد یہ میرے اشک ندامت تو دیکھنا ہوتے ہیں جذب دامن پروردگار میں ہے زندگی تو جیت بھی ہو جائے گی کبھی اے دل نہ ہو ملول محبت کی ہار میں وہ جان صد بہار نہ جانے کب آئے گا صدیاں گزر گئی ہیں فریب بہار میں رفعتؔ حریم ناز کے پردے الٹ گئے میری نگاہ شوق کے پہلے ہی وار میں

rahti hai yaad-e-yaar dil-e-be-qaraar mein

غزل · Ghazal

تری تلاش سے مجھ کو کبھی مفر نہ ملے میں چاہتا ہوں مجھے تیرا سنگ در نہ ملے نفس نفس تو ملے وہ نظر نظر نہ ملے وہ عمر بھر بھی ملے اور عمر بھر نہ ملے رلائے جا غم فرقت بہ شان خودداری وہ حال پوچھنے آئیں تو آنکھ تر نہ ملے ہے درد عشق ہی دراصل زندگی میری خدا کرے مجھے غم خوار و چارہ گر نہ ملے ہمیں تحیر جلوہ سے یہ ہوا معلوم وہیں وہیں وہ ملے وہ جدھر جدھر نہ ملے کسی کے زخم انہیں دیکھنے کی تاب نہیں الٰہی ان کو مری وسعت نظر نہ ملے مرے یقین نے کی میری رہبری رفعتؔ جو گمرہان سفر تھے وہ راہبر نہ ملے

tiri talaash se mujh ko kabhi mafar na mile

Similar Poets