
Riyasat Ali Taj
Riyasat Ali Taj
Riyasat Ali Taj
Ghazalغزل
آپ اپنی نقاب ہے پیارے یہ بھی کوئی حجاب ہے پیارے نقش بر روئے آب ہے پیارے زندگی اک حباب ہے پیارے لے کے چل شیخ دفتر تقویٰ آج روز حساب ہے پیارے تیرا حسن و جمال کیا کہنا ماہتاب آفتاب ہے پیارے کون جاتا ہے دل میں آ آ کر ہر سکوں اضطراب ہے پیارے حسن تقویٰ شکن سہی لیکن عشق خانہ خراب ہے پیارے اک سراپا سرور و بد مستی آنکھ کیا ہے شراب ہے پیارے میرے ذوق نظر کی رسوائی کس خطا کا عتاب ہے پیارے اس قدر بھی نہ تاجؔ اترانا چار دن کا شباب ہے پیارے
aap apni naqaab hai pyaare
کہا یہ کس نے مجھے زندگی سے پیار نہیں یہ اور بات ہے حالات خوش گوار نہیں بساط ہی تو ہے کیا جانے کب الٹ جائے یہاں پیادہ و فرزیں کا اعتبار نہیں جہاں جہاں نظر اٹھی وہاں وہاں تو تھا کہاں کہاں ترے جلووں کا انتشار نہیں وہ کیا کسی کی نگاہوں پہ اعتبار کرے جسے خود اپنی نگاہوں پہ اعتبار نہیں فسوں شناس ہوں میں رنگ و بو سمجھتا ہوں فریب خوردۂ رنگینیٔ بہار نہیں نہیں ہے کوئی بھی شے قبضۂ تصرف میں کسی بھی چیز پہ انساں کو اختیار نہیں دم حباب نوازش کی اس قدر بارش گناہ گار بھی جیسے گناہ گار نہیں نظر کا کیا ہے بہک بھی گئی ہے یہ اکثر ہمارا دامن دل ہے کہ داغ دار نہیں ابھی تو کشمکش دار و گیر باقی ہے ابھی حیات کا ماحول سازگار نہیں مری روش ہے الگ تاجؔ میرا ذوق جدا ادب کو بیچ کے جینا میرا شعور نہیں
kahaa ye kis ne mujhe zindagi se pyaar nahin
مرحلے ایسے بھی اکثر آئے پھول برسائے تو پتھر آئے اک فقط آپ کے ہو جانے سے کتنے الزام میرے سر آئے جام ٹھکرا دیے جب بھی میں نے سامنے میرے سمندر آئے ایک چہرے پہ بشارت نہ ملی ان گنت چہروں کو پڑھ کر آئے بھول جاتے ہیں پرندے ماں کو جب بھی اڑنے کو ذرا پر آئے آپ کا شہر کہ تھا شہر ادب بے ادب اس میں بھی کچھ در آئے عشق میں تاجؔ کشش ہو ایسی خود ہی محبوب تڑپ کر آئے
marhale aise bhi aksar aae
چاندنی چھٹکی ہوئی ہو تو غزل ہوتی ہے جل پری پاس کھڑی ہو تو غزل ہوتی ہے دل نشیں کوئی نظارہ کوئی دل کش منظر بات دلچسپ کوئی ہو تو غزل ہوتی ہے یا کسی درد میں ڈوبی ہوئی آواز نحیف یا کوئی چیخ سنی ہو تو غزل ہوتی ہے شاعری نام ہے احساس کے لو پانے کا آگ سی دل میں دبی ہو تو غزل ہوتی ہے کوئی کھلتا ہوا چہرا کوئی غنچہ کوئی پھول آنکھ سیراب ہوئی ہو تو غزل ہوتی ہے درمیاں آپ کے میرے کوئی حائل ہو جائے کوئی دیوار کھڑی ہو تو غزل ہوتی ہے کوئی جدت کوئی ندرت کوئی پاکیزہ خیال ہاں کوئی بات نئی ہو تو غزل ہوتی ہے پہلے شاعر کو ملے ذہن رسا قلب گداز پھر وہ لفظوں کا دھنی ہو تو غزل ہوتی ہے عام حالات میں ہوتی نہیں اے تاجؔ غزل کچھ نہ کچھ درد سری ہو تو غزل ہوتی ہے
chaandni chhiTki hui ho to ghazal hoti hai
یہ کیا تمہارے جی میں سمائی تمام رات گالوں پہ رکھ کے سوئے کلائی تمام رات اختر شماریوں میں گزر ہی گیا جنون مانا کے مجھ کو نیند نہ آئی تمام دیکھے جو چشم زار کہ سیلاب ہائے خوں یاد آئے دست و پائے حنائی تمام رات بستر کی ایک ایک شکن نوک خار تھی کروٹ بدلتے نیند نہ آئی تمام رات تسبیح لے کے ہاتھ میں زاہد نے صبح کی یاں تاجؔ ہم نے عید منائی تمام رات
ye kyaa tumhaare ji mein samaai tamaam-raat
یہ سرمئی آفاق یہ شمعوں کے دھندلکے آ جاؤ بھی یادوں کے جھروکوں سے نکل کے دیوانے چلے آتے ہیں صحرا سے نکل کے رکھ دیں نہ کہیں نظم گلستاں ہی بدل کے پھولوں کی طرح ان کی حفاظت ہے ضروری یہ آج کے بچے ہی بڑے ہوتے ہیں کل کے ہے جب تو تحمل کہ کوئی آہ نہ نکلے اک اشک کا قطرہ مری پلکوں سے نہ ڈھلکے دو روٹیاں عزت سے جو مل جائیں تو بس ہے دروازے پہ لے جائے نہ وقت اہل دول کے جائیں تو کہاں جائیں ترے چاہنے والے حالات کے تپتے ہوئے صحرا سے نکل کے ہم دست درازی کے تو قائل نہیں ساقی حصے میں ہمارے بھی اگر مے ہو تو چھلکے فن کار کی منہ بولتی تصویر ہے فن بھی تم کیا ہو بتا دیتے ہیں اشعار غزل کے کافی ہے ہمارے لیے مٹی کے گھروندے ہم خاک بسر اہل نہیں تاجؔ محل کے
ye surmai aafaaq ye shamon ke dhundalke





