
Riyaz Saghar
Riyaz Saghar
Riyaz Saghar
Ghazalغزل
دل و دماغ میں اک دھاندلی مچی ہوئی ہے کہیں سے تیز ہوا عشق کی چلی ہوئی ہے یہ میرا کمرہ تری یاد سے سجا ہوا ہے اور اس کی میز پہ چوڑی تری پڑی ہوئی ہے گلی کے موڑ سے آگے جو پانچواں گھر ہے اداسی اس کے در و بام پر لکھی ہوئی ہے وہ وارڈ روب مہکتا تھا جب تو آتا تھا اب اس کے کپڑوں میں خوشبو تری بسی ہوئی ہے صلہ تو دے کوئی راتوں کے جاگنے کا مجھے یہ میری آنکھ ترے خواب سے بھری ہوئی ہے ابھر رہی ہے تری چاپ اب بھی زینے سے تجھے گئے ہوئے دن تو نہیں صدی ہوئی ہے
dil-o-dimaagh mein ik dhaandli machi hui hai
ہم ذات کے کنکر ہیں پہ ہیرے کی طرح ہیں ہم بجھ کے بھی منظر میں سویرے کی طرح ہیں پہنچائیں گے گھر تم کو بھٹکنے نہیں دیں گے جنگل سے گزرتے ہوئے رستے کی طرح ہیں کچھ ٹوٹی ہوئی پنسلیں پھوٹے ہوئے کاغذ ہم ہیں تو مگر بچے کے بستے کی طرح ہیں اشجار کا دیوار کا گلیوں کا ہمیں دکھ اس شہر میں ہم درد خزانے کی طرح ہیں تم جب بھی بلاؤ گے چلے آئیں گے یارو ہم دور گرانی میں بھی سستے کی طرح ہیں جو آتا ہے زنجیر بہ پا آتا ہے ساغرؔ زینے کسی منزل کے کٹہرے کی طرح ہیں
ham zaat ke kankar hain pe hiire ki tarah hain
تیری جمالیات سے آگے نکل گئے ہم حس و حسیات سے آگے نکل گئے اپنے کسی جزیرے پہ عیدیں منائیں گے ہم تیری چاند رات سے آگے نکل گئے لکھی ہوئی ہیں چہروں پہ ساری کثافتیں اب چہرے واقعات سے آگے نکل گئے اب ہر جگہ پہ گاتے ہیں اور ناچتے ہیں لوگ اب یہ توے پرات سے آگے نکل گئے منہ زور پانیوں کی غذا بن گئے وہ لوگ جو کشتیٔ نجات سے آگے نکل گئے جو دل کہے گا اب وہ کریں گے سنو سنو ہم وضع احتیاط سے آگے نکل گئے جو تجھ کو کائنات سمجھتے تھے آج تک وہ تیری کائنات سے آگے نکل گئے
teri jamaaliyaat se aage nikal gae
دل جو گھبرایا تو اٹھ کر دوستوں میں آ گیا میں کہ آئینہ تھا لیکن پتھروں میں آ گیا آج اس کے بال بھی گرد سفر سے اٹ گئے آج وہ گھر سے نکل کر راستوں میں آ گیا پڑھ رہا ہوں اس کتاب جسم کی اک اک ورق نور سب آنکھوں کا کھنچ کر انگلیوں میں آ گیا لوگ کہتے ہیں کہ اپنا شہر ہے لیکن مجھے یوں گماں ہوتا ہے جیسے دشمنوں میں آ گیا ہم بھرے بازار میں اس وقت سولی پر چڑھے شہر سارا ٹوٹ کر جب کھڑکیوں میں آ گیا شب زدوں نے روشنی مانگی تو سورج دفعتاً آسمانوں سے اتر کر بستیوں میں آ گیا جب سمیٹا میں نے اپنے ریزہ ریزہ جسم کو اور بھی کچھ زور ساغرؔ آندھیوں میں آ گیا
dil jo ghabraayaa to uTh kar doston mein aa gayaa
تو مجھ کو مرے نام سے پہچان کہ میں ہوں چھوٹا ہی سہی مجھ کو مگر مان کہ میں ہوں اک عمر اسی شہر میں گزری ہے ترے ساتھ اب کس لیے بنتا ہے تو انجان کہ میں ہوں یہ جیب بھی میری ہے یہ بازار بھی میرا کر دیتا ہوں میں اپنا ہی نقصان کہ میں ہوں ہو جائے گا اک روز یہ اعلان کہ میں تھا اب کرتا ہوں خود اپنا ہی اعلان کہ میں ہوں اک سبزۂ نورستہ ہوں برگد تو نہیں میں تو کس لیے ہے اتنا پریشان کہ میں ہوں اس ہجر سرائے میں ہوں دو چار ہی دن اب تھوڑا سا ہی لا دے مجھے سامان کہ میں ہوں
tu mujh ko mire naam se pahchaan ki main huun





