SHAWORDS
R

Riyazat Ali Shaiq

Riyazat Ali Shaiq

Riyazat Ali Shaiq

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

taarif sun rahe hain tumhaare jamaal ki

تعریف سن رہے ہیں تمہارے جمال کی تحریر کیجئے کوئی صورت وصال کی لے کر تمہارا نام جو جیتے ہیں عمر بھر تم کو بھی کچھ خبر ہے غریبوں کے حال کی دل میں ہمارے ظلمت غم کا گزر نہیں اک شمع جل رہی ہے کسی کے خیال کی ساقی سے ہے شراب حسیں تر کی آرزو تصویر کھینچنی ہے کسی کے جمال کی دل لے کے پہلے دل کا ہی پھر حال پوچھنا بس آپ کی یہی تو ادا ہے کمال کی وہ دن بھی تھے کہ آپ کو شائقؔ سے ربط تھا باتیں ہوئی ہیں آج وہ خواب و خیال کی

غزل · Ghazal

us kaa javaab milnaa jahaan mein muhaal hai

اس کا جواب ملنا جہاں میں محال ہے وہ حسن لاجواب خود اپنی مثال ہے یہ اور بات ہے کہ نہ ہوں ان کو التفات وہ خوب جانتے ہیں ہمارا جو حال ہے طالب کوئی ہے ایک کرم کی نگاہ کا کیجے نہ رد کسی کا یہ پہلا سوال ہے جتنے ہیں دور اتنے ہی دل کے قریب ہیں ہم کو تو دور ہجر بھی دور وصال ہے ہم بادہ کش تو مے کو سمجھتے ہیں زندگی اے واعظ بزرگ ترا کیا خیال ہے دنیا میں با کمال ملیں گے گلی گلی میں بے کمال ہوں یہی میرا کمال ہے شائقؔ تری نظر کی جوانی نہ جائے گی پنہاں تری نظر میں کسی کا جمال ہے

غزل · Ghazal

rindon kaa zarf saaqi tu dekh aazmaa ke

رندوں کا ظرف ساقی تو دیکھ آزما کے گر زہر بھی عطا ہو پی لیں گے مسکرا کے اس میکدے سے باہر اتنا ہمیں بتا دے ساقی سکوں ملے گا کس انجمن میں جا کے بادہ کشوں کے کوئی یہ حوصلے تو دیکھے محفل میں پی رہے ہیں واعظ کو مے دکھا کے اب میکشوں کا پینا کار ثواب ٹھہرے ساغر چھلک رہے ہیں ہاتھوں میں پارسا کے توبہ بھی کی تھی شاید پیمان ترک مے بھی سب کچھ بھلا دیا ہے کالی گھٹا نے چھا کے جس دل میں آرزو ہو جنت کو دیکھنے کی دیکھے وہ آج جنت ان کی گلی میں جا کے جینا ہو اب کہ مرنا ڈوبیں کہ پار اتریں کشتی ہے اپنی شائقؔ ہاتھوں میں ناخدا کے

غزل · Ghazal

dil-e-mard-e-musalmaan mein kisi but kaa qadam aayaa

دل مرد مسلماں میں کسی بت کا قدم آیا مری دنیا میں تم آئے کہ پتھر کا صنم آیا پئے نذر عقیدت لے کے جان و دل کا نذرانہ صنم خانے کے در پر اک پرستار حرم آیا اٹھاؤ جام و ساغر مے کشو کالی گھٹا چھائی مناؤ جشن صہبا گھر کے پھر ابر کرم آیا کرا دو غسل مے اے بادہ خوارو شیخ صاحب کو بھری محفل میں میخانے کی شیخ محترم آیا دکھا کے جام چھلکاتے ہیں مے کش آج واعظ کو ہوئی ساقی کی جب چشم کرم رندوں میں دم آیا وہیں سے چل دیا شائقؔ میں فوراً سوئے مے خانہ مرے آگے جہاں بھی قصۂ دیر و حرم آیا

غزل · Ghazal

kartaa hai vo jafaa to kare main vafaa karun

کرتا ہے وہ جفا تو کرے میں وفا کروں یوں اپنی دوستی کا فریضہ ادا کروں اس کا شعار وہ ہے یہ میرا شعار ہے اس کی جفا کے نام میں اپنی وفا کروں اس کا کبھی جواب نہ آیا نہ آئے گا یہ جانتے ہوئے بھی اسے خط لکھا کروں وعدے پہ اس کے آنے کے گھر کو سجا لیا اب اس کے بعد بھی نہ وہ آئے تو کیا کروں اک لمحہ میری سمت کو وہ ملتفت تو ہو وہ حال دل سنے تو بیاں مدعا کروں کی اس نے ہر قدم پہ جفاؤں کی انتہا میں بھی نہ کیوں وفاؤں کی پھر انتہا کروں جس نے مری حیات کو تاریک کر دیا پھر بھی میں اس کی راہ میں روشن دیا کروں وہ ہے جو میرے قتل کا ساماں کیے ہوئے میرا نہیں شعار کہ میں بد دعا کروں غالب کی یہ زمین ہے شائقؔ خدا گواہ کیوں کر میں اس زمین کا رتبہ سوا کروں

Similar Poets