
Rizwan Muqeem
Rizwan Muqeem
Rizwan Muqeem
Ghazalغزل
tu guftugu ke shauq mein mujh ko niDhaal kar
تو گفتگو کے شوق میں مجھ کو نڈھال کر میں کچھ نہ کہہ سکوں مجھے اتنے سوال کر دریا سموئے بیٹھا تھا آنکھوں کے دشت میں جب جب کہا گیا مجھے کوئی کمال کر ہارے ہوئے ہے شخص کو ہیڈ اور ٹیل کیا کس کو دکھا رہا ہے تو سکہ اچھال کر جوڑا کھلا ہے اس کا قیامت ہے اس پہ یہ انگڑائی لے رہی ہے وہ بانہیں نکال کر وافر جو مل گیا تھا سو تو نے کیا ہے خرچ رکھا نہیں گیا کہیں مجھ کو سنبھال کر مجھ کو مقیمؔ رہنے دو پیچھے ہی اب مرے چلتا نہیں ہوں آگے میں کچھ دیکھ بھال کر
yunhi milte raho mohabbat se
یوںہی ملتے رہو محبت سے کام ہو جائے گا سہولت سے مجھ کو پر کاٹنے پڑے اپنے پیڑ مرنے لگے تھے ہجرت سے درد غم ہجر اور رسوائی کام اتنے اور ایک اجرت سے مدتوں بعد اس کے چہرے پر اک تبسم ہے وہ بھی زحمت سے آگے بڑھتا تو جھوٹ کہلاتا سچ کو روکا گیا مہارت سے بارہا گھر کی ہے تراش ہوئی بد نما ہو گیا مرمت سے آج ٹھکرا رہی ہو جس کو تم کل خریدو گی اس کو دولت سے زندگی ہو کہ ہو تمہارا لباس ساری گرہیں کھلی ہیں محنت سے
khuub paisa kamaanaa paDtaa hai
خوب پیسہ کمانا پڑتا ہے اپنا سکہ جمانا پڑتا ہے مانگا کرتے نہیں کسی سے دل دوستا دل چرانا پڑتا ہے دیکھنے کو کہ کون ہے نزدیک کس قدر دور جانا پڑتا ہے میں وہ جنگل ہوں جس کی صحبت میں شاخ در شاخ آنا پڑتا ہے خالی برتن کا شور بھرتا ہوں خود میں کہرام اٹھانا پڑتا ہے روکنی پڑتی ہے کبھی ہچکی ہاں کبھی مسکرانا پڑتا ہے تیرے قد کی برابری کے لیے خود کو کتنا گرانا پڑتا ہے بار دیگر ہے جستجو تیری شام کو گھر بھی آنا پڑتا ہے آنکھیں ویران کرنا پڑتی ہیں دشت سے پھول لانا پڑتا ہے
apni auqaat se baahar bhi to ho saktaa hai
اپنی اوقات سے باہر بھی تو ہو سکتا ہے یہ جو آنسو ہے سمندر بھی تو ہو سکتا ہے ثبت یہ مہر محبت ہے مرے سینے پر اس کا ناخن کبھی خنجر بھی تو ہو سکتا ہے ٹوٹی دیوار کا منظر کوئی دستک جیسا کوئی دیوار کے اندر بھی تو ہو سکتا ہے تیرے جانے سے یہ کھلنے لگے معنی مجھ پر ظرف والا کبھی کمتر بھی تو ہو سکتا ہے جس سہولت سے وہ بھرتا ہے مجھے بانہوں میں دشمن جاں مرا دلبر بھی تو ہو سکتا ہے
kis e'tidaal mein hai hulaaraa zamin kaa
کس اعتدال میں ہے ہلارا زمین کا ٹوٹے نہ انہماک خدارا زمین کا زیر زمیں ملے نہ ملے کس کو کیا خبر اک ٹکڑا چاہیئے ہے ہمارا زمین کا وہ نیست چاہے اور یہ مانگے ہے ہست کو ممکن کہاں خلا سے گزارا زمین کا ایسے لٹکتا رہتا ہے سر پر ہر ایک وقت یہ آسماں ہو جیسے خسارہ زمین کا سیارگاں نہ دیکھ حقارت سے اس طرف تجھ کو نہ کر دے راکھ شرارہ زمین کا سایہ بھی جل رہا ہے درختوں کی اوٹ میں اس بار بھی نہ سمجھے اشارا زمین کا کوئی کشش کہیں کی مجھے کھینچتی گئی پھر ہاتھ میں رہا نہ کنارا زمین کا اک چاند خاک پر ہے ہمارا فلک مقام اک پھول آسماں پہ ہمارا زمین کا بانہوں میں دیکھ چرخ کہن گھومتے ہوئے دلچسپ ہو گیا ہے نظارہ زمین کا ایسا نہ ہو فلک کی ہتھیلی سے جا گرے گردش میں آج کل ہے ستارا زمین کا





