Rizwan Saeed
دل ربا پیار میں پیدا نئے دستور نہ کر توڑ دیں عہد وفا اتنا تو مجبور نہ کر مان لے بات مری درد کو مشہور نہ کر شرط رسوائی جہاں والوں کی منظور نہ کر مدتیں ہجر کی بھر دیں گی مرے زخموں کو مت لگا وصل کے نشتر انہیں ناسور نہ کر صرصر وقت کے جھونکوں نے بجھایا ہے جنہیں ان چراغوں کو جلا زندگی بے نور نہ کر
dilrubaa pyaar mein paidaa nae dastur na kar
2 views