
Rizwana Saeed Roz
Rizwana Saeed Roz
Rizwana Saeed Roz
Ghazalغزل
kaun kahtaa hai main adhuri huun
کون کہتا ہے میں ادھوری ہوں میں تو ہر زاویے سے پوری ہوں بیوی بیٹی بہو بہن بھائی کوئی رشتہ ہو میں ضروری ہوں میں ہوں تیرے شعور کا حصہ تیری سوچوں میں لا شعوری ہوں مجھ سے تہذیب اور تمدن ہے نیاز مندی ہوں جی حضوری ہوں خاک ہوں اور نمو کا باعث ہوں روزؔ ناری ہوں اور نہ نوری ہوں
mujhe vo shakhs qalandar dikhaai detaa hai
مجھے وہ شخص قلندر دکھائی دیتا ہے جو میرے خواب کے اندر دکھائی دیتا ہے یہ لگ رہا ہے مرا شہر چھوڑ جائے گا وہ آج کل مجھے اکثر دکھائی دیتا ہے تو کیا یہ مان لوں میں آسماں سے اوپر ہوں ہر اک ستارہ زمیں پر دکھائی دیتا ہے جو سامنے ہے صریحاً نظر کا ہے دھوکہ وہ ہے نہیں جو برابر دکھائی دیتا ہے تمہاری آنکھ میں دیکھا ہے سب نے دشت مگر مجھے تو ان میں سمندر دکھائی دیتا ہے
hijr ne is tarah utaare rang
ہجر نے اس طرح اتارے رنگ جیسے تھے ہی نہیں ہمارے رنگ ایک منظر سے ہو گئے گھائل تم نے دیکھے کہاں ہیں سارے رنگ نیند ٹھہری ہوئی تھی پلکوں پر رہ گئے خواب کے کنارے رنگ نقش ابھرے تمہاری نظروں سے آپ کی آنکھ نے نکھارے رنگ کس قدر شان سے کشید ہوئے کس قدر تمکنت سے ہارے رنگ سرخ جوڑے کا انتخاب کیا لاکھ کرتے رہے اشارے رنگ میرے آنگن میں کیا نہیں موجود خوشبوئیں تتلیاں ستارے رنگ روزؔ کو خوشبوؤں سے نسبت ہے نام سے منسلک ہیں سارے رنگ
ek uDaan kaa Dar aur main
ایک اڑان کا ڈر اور میں میرے ٹوٹے پر اور میں بھیگ رہے ہیں ساون میں میری چشم تر اور میں ڈوب گئے ہیں صحرا میں شام کا اک منظر اور میں کروٹ سلوٹ اکتاہٹ نیند بھرا بستر اور میں خواب کا منظر خواب نہیں اتنے سارے در اور میں ہنستے بستے جیتے ہیں مرشد بچے گھر اور میں





