
Rubi Jha
Rubi Jha
Rubi Jha
Ghazalغزل
عمر ساری یوں شب ہجر میں بیتے گی کیا کوئی دستک سی ترے دل پہ نہیں ہوتی کیا اپنے پہلو میں اترتے ہوئے دیکھا ہے قمر ہوگی اس خواب کی تعبیر کبھی پوری کیا اتنے حیران ہو تم کس لئے آخر صاحب کون سی دنیا سے ہو دھوپ نہیں دیکھی کیا اک مصور میری تصویر بنا کر ہارا کوچیاں رنگوں کی موجوں پہ کبھی چلتی کیا پھر تمہیں علم سمندر کے نمک کا ہوگا اوس آنکھوں سے کسی کی کبھی تم نے پی کیا یہ جو ہنگامہ بپا رہتا ہے دن رات کملؔ میرے دل میں کوئی رہنے لگا ہے وحشی کیا
umr saari yuun shab-e-hijr mein bitegi kyaa
نہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہ موت کا انتظام کوئی نہ ذائقہ ہجر میں بچا ہے نہ زہر میں ہے قوام کوئی رہا نہ دل میں کسی کا ڈیرا رہا نہیں جب مقام کوئی تو کیسے پہلو میں کوئی بیٹھے گزارے بھی وقت شام کوئی نہ گھٹنے پر ہی سکون ملتا نہ بڑھنے پر ہی قرار آئے طبیب مجھ کو یوں لگ رہا ہے مرض نہ میرا ہے عام کوئی دغا جو دے کر نکل گیا تھا اسی کی خاطر وہ ایک لڑکی ہے منتظر اور دبائے بیٹھی گل حنا میں وہ نام کوئی
na zindagi kaa koi bharosa na maut kaa intizaam koi
وہی تو سین اب چھائے ہوئے ہیں جو تیرے ساتھ فلمائے ہوئے ہیں کسی کی آنکھ کا یہ خارا پانی سمندر بھیک میں لائے ہوئے ہیں بدن کو چاند نے جب سے چھوا ہے ستارے خود پہ اترائے ہوئے ہیں محبت آج بھی زندہ ہے ان سے جو دیواروں میں چنوائے ہوئے ہیں تمہارے لمس کو پانے کی خاطر ہم اپنی زلف الجھائے ہوئے ہیں رکھیں ٹیٹو یا اب مٹوا دیں اس کو تیرے جو نام گدوائے ہوئے ہیں
vahi to scene ab chhaae hue hain





