
Rubina Mumtaz Rubi
Rubina Mumtaz Rubi
Rubina Mumtaz Rubi
Ghazalغزل
dhoke pe dhoka is tarah khaate chale gae
دھوکے پہ دھوکہ اس طرح کھاتے چلے گئے ہم دشمنوں کو دوست بناتے چلے گئے ہر زخم زندگی کو گلے سے لگا لیا ہم زندگی سے یوں ہی نبھاتے چلے گئے وہ نفرتوں کا بوجھ لیے گھومتے رہے ہم چاہتوں کو ان پہ لٹاتے چلے گئے جو خواب زندگی کی حقیقت نہ بن سکا اس کے حسیں فریب میں آتے چلے گئے روبیؔ چھپانا درد کو آساں نہ تھا مگر ہم آڑ میں ہنسی کی چھپاتے چلے گئے
hai aarzu ye koi to aisaa dikhaai de
ہے آرزو یہ کوئی تو ایسا دکھائی دے جو بے حسی کے دور میں اپنا دکھائی دے احوال زندگی میں ہے ہر شخص اجنبی چہرہ کوئی تو مجھ کو شناسا دکھائی دے ہے کشمکش میں آج بڑی زندگی مری ہوں منتظر کہ کوئی تو رستہ دکھائی دے چاروں طرف ہے راج اداسی کا آج کل کوئی تو ہو جو شہر میں ہنستا دکھائی دے ہے آنے والے وقت سے اک روبیؔ خوف سا امید کا دیا کوئی جلتا دکھائی دے
zindagi kaa safar kaThan hai bahut
زندگی کا سفر کٹھن ہے بہت چل رہی ہوں مگر تھکن ہے بہت یوں تو کہنے کو ہے شریک سفر پھر بھی لیکن اکیلا پن ہے بہت گو خلوص و وفا کا ہے پیکر اس کے لہجے میں پر چبھن ہے بہت یاد اوڑھی ہوئی ہے اس کی یوں لاش کو جیسے اک کفن ہے بہت زندگی ہے عجیب الجھن میں جی رہی ہوں مگر گھٹن ہے بہت میں مکمل کبھی نہ ہو پائی زندگی میں ادھوراپن ہے بہت خاک ہوں میں زمیں ہے میرا نصیب پھر بھی اڑنے کی کیوں لگن ہے بہت زندگی کس کی یاد میں روبیؔ مدتوں سے تری مگن ہے بہت





