
Rumana Rumi
Rumana Rumi
Rumana Rumi
Ghazalغزل
وفا کی فصل پھر بونے چلی ہوں میں کیا پاؤں گی بس کھونے چلی ہوں جنوں کی حد سے بھی آگے قدم ہے نہ جانے اور کیا ہونے چلی ہوں یہ ممکن تو نظر آتا نہیں ہے انا کو اپنی میں دھونے چلی ہوں سمندر آ گیا میرے مقابل جب اس نے دیکھا میں رونے چلی ہوں یہی نیکی مجھے زندہ رکھے گی کہ بوجھ اوروں کا میں ڈھونے چلی ہوں رہی ہوں مضطرب خود کو بھی پا کر پھر اپنے آپ کو کھونے چلی ہوں اتر آئی ہے یاد آنکھوں میں تیری میں تیرے واسطے سونے چلی ہوں بہت ہے بارش آلام رومیؔ حفاظت کو کسی کونے چلی ہوں
vafaa ki fasl phir bone chali huun
زندگی آ ترا ارمان بدل کر دیکھیں دل میں ہے جو مرے مہمان بدل کر دیکھیں شمع امید کے مانند ملا ہے کوئی ہجر کی دھوپ کا عنوان بدل کر دیکھیں اس نے بخشا ہمیں اعزاز شناسائی کا کیوں نہ ہم اپنی ہی پہچان بدل کر دیکھیں میری آنکھوں میں نئے رنگ ابھر آئے ہیں سائیں گھر کا سر و سامان بدل کر دیکھیں عقل گل خود کو ہے سمجھے ہوئے جو خاک نشیں اس کے دل کا یہ کبھی مان بدل کر دیکھیں دوش دیتے ہیں ہر اک بات پہ حالات کو جو اپنے اندر کا وہ انسان بدل کر دیکھیں فن کی دنیا میں نئی صبح کا سورج بو کر آؤ ہم اپنا گلستان بدل کر دیکھیں ہم اجالا ہیں اجالوں سے محبت ہے ہمیں فن تخلیق تری شان بدل کر دیکھیں ذہن کی جھیل میں کھل اٹھا محبت کا کنول دل میں جو غم کا ہے طوفان بدل کر دیکھیں رومیؔ پوجا وہ مکمل نہیں ہونے دیتا من کے اندر ہے جو بھگوان بدل کر دیکھیں
zindagi aa tiraa armaan badal kar dekhein
جستجو تیری درد سر ٹھہری لے کے مجھ کو یہ در بدر ٹھہری تجھ سے منسوب جب تلک میں رہی میری ہستی بھی معتبر ٹھہری یہ مری زندگی تمہارے بغیر کتنی بے رنگ و مختصر ٹھہری مشکلیں مجھ کو ڈھونڈنے نکلیں دم جو لینے کو لمحہ بھر ٹھہری یہ سلیقہ تجھی سے آیا ہے بات کرنے میں با ہنر ٹھہری اف تری بانہوں کا حصار لطیف یوں لگا شام میں سحر ٹھہری جس پہ محو سفر رہا تو مدام بس وہی میری رہ گزر ٹھہری ایک تم ہو کہ ہاتھ میں پتھر اور میں ایک شیشہ گر ٹھہری اپنے عرفان ذات سے رومیؔ اپنے اندر میں معتبر ٹھہری
justuju teri dard-e-sar Thahri
دل نے جب بھی ترا خیال کیا خود کو آئینۂ جمال کیا دل کی دھڑکن میں بس گیا ایسے سانس لینا مرا محال کیا میں نے سچ بولنے کی جرأت کی سچ سنا آپ نے کمال کیا تیری یادیں مری محافظ ہیں تیری یادوں کو میں نے ڈھال کیا تیری چاہت کے لمحے لمحے کو دل نے مانند ماہ و سال کیا وقت نے کب اسے رکھا زندہ کام جس نے جو بے مآل کیا تیری قربت میں بیتے لمحوں نے مجھ کو بھی صاحب جمال کیا آئنے نے ترا قصیدہ کہا آئنہ جب کبھی مثال کیا ایک ہی تھا جواب حسن کے پاس حسن سے جس نے بھی سوال کیا زندگی کا ہے سانحہ رومیؔ دل کی تنہائی نے نڈھال کیا
dil ne jab bhi tiraa khayaal kiyaa
اپنی دیدہ وری سے ڈرتی ہوں ورنہ میں کب کسی سے ڈرتی ہوں اصل سے نقل بڑھ نہ جائے کہیں فن صورت گری سے ڈرتی ہوں مجھ کو اتنا خدا کا خوف نہیں جتنا میں آدمی سے ڈرتی ہوں دوستی کی تو بات ہی نہ کرو میں بہت دوستی سے ڈرتی ہوں تیرگی تو مری محافظ ہے ہم نفس روشنی سے ڈرتی ہوں جس کو انسانیت سے پیار نہ ہو ایسے ہر آدمی سے ڈرتی ہوں ڈوب جاؤں نہ میں خودی میں کہیں اس لیے اس خودی سے ڈرتی ہوں خود کہیں دل کہیں دماغ کہیں میں تری بندگی سے ڈرتی ہوں مصلحت سے جو کام لیتے ہیں ان کی کم ہمتی سے ڈرتی ہوں لے نہ ڈوبے تجھے یہ اے رومیؔ میں تری خود سری سے ڈرتی ہوں
apni dida-vari se Darti huun





