SHAWORDS
Saa’In Alig

Saa’In Alig

Saa’in Alig

Saa’in Alig

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

اچھا ہے کیا خیال بھی ان کے خیال کا باعث وہی رہیں مرے جی کے وبال کا جو ہیں اسیر حاکم و شہہ ان کی خیر ہو میں تو اسیر ہو گیا زلفوں کے جال کا اچھی نہیں یہ قربتیں مجھ سے مرے حضور کہتے ہیں مجھ کو دیکھیے شاعر ملال کا صائنؔ کا حال پوچھیں تو کہنا فقط یہی صدقہ اتار لیجیے اپنے خیال کا

achchhaa hai kyaa khayaal bhi un ke khayaal kaa

غزل · Ghazal

اے رب کائنات مجھے لے پناہ میں بہتا ہی جا رہا ہوں خلیج گناہ میں تصویر شب میں حکمت حاکم تو دیکھیے کھلتا ہے نور ماہ لباس سیاہ میں ان کی گلی میں آ تو گئے ہیں مگر یہ دل کرتا ہے ضد کہ آئیے ان کی نگاہ میں بے سود ہے یہ علم و ذہانت یہ فلسفہ سمجھیں اگر نہ فرق سفید و سیاہ میں لے کر پرانی سانس کو دیتی ہے پھر نئی قوت کہاں سے آئی ہے ایسی گیاہ میں صائنؔ غزل پہ داد ملی ہے تو خوش نہ ہو کچھ اور ہی چھپا ہے رفیقوں کی واہ میں

ai rabb-e-kaainaat mujhe le panaah mein

غزل · Ghazal

دیکھ اب تو میرا دشمن بھی کہے کیا بات ہے اب تو میرے پاس آ کر پوچھ لے کیا بات ہے بس اسی حسرت کے چلتے میں تو ہوں شاعر بنا میں سناؤں شعر اس کو وہ کہے کیا بات ہے اس قدر یہ مہربانی ان دنوں مجھ پہ خدا مل رہے ہیں بن دعا ہی غم مجھے کیا بات ہے اے مسیحا تیرے ہاتھوں کی شفا کو کیا ہوا تیرے ہوتے زخم میرے ہیں ہرے کیا بات ہے تم تو کہتے تھے کہ میرے قرب میں ہے اک سکوں آج کیوں ہیں درمیاں یہ فاصلے کیا بات ہے آج صائنؔ یاد کرتے ہیں مجھے احباب کیوں سوچتا ہوں پوچھ لوں کس کام سے کیا بات ہے

dekh ab to meraa dushman bhi kahe kyaa baat hai

غزل · Ghazal

ہوش تھا یا کوئی خمار رہا دل کہ بیتاب و بے قرار رہا ان کے پہلو میں جا چھپا آخر دل پہ ہم کو نہ اختیار رہا لاکھ چاہا کہ منجمد ہوتا حیف دل محو انتشار رہا دل کو دھڑکا تھا اس رفاقت میں زہے قسمت کہ یار یار رہا ان کے پہلو میں جی پریشاں ہے یہ قلق ہم کو بار بار رہا چند لمحوں کا وصل تھا اور پھر دیر تک ان کا انتظار رہا ہجر میں اک سکوں تو ہے صائنؔ وصل میں کب کسے قرار رہا

hosh thaa yaa koi khumaar rahaa

غزل · Ghazal

دل دکھاؤ نہ بارہا جاناں منہ چھپاؤ نہ بارہا جاناں میں تمہارا ہوں بس تمہارا ہوں آزماؤ نہ بارہا جاناں خود ہی روٹھا ہوں خود ہی مانوں گا تم مناؤ نہ بارہا جاناں جاں سنبھلنے تو دو کسی لمحے یاد آؤ نہ بارہا جاناں میری غزلوں سے سب شناسا ہیں گنگناؤ نہ بارہا جاناں کچھ سبق بھی تو لو حوادث سے چوٹ کھاؤ نہ بارہا جاناں ایک حالت میں مجھ کو رہنے دو آؤ جاؤ نہ بارہا جاناں اک تبسم ہی جان لیوا ہے مسکراؤ نہ بارہا جاناں جس کہانی میں مر گیا صائنؔ وہ سناؤ نہ بارہا جاناں

dil dukhaao na baarhaa jaanaan

Similar Poets