
Saadat Nazeer
Saadat Nazeer
Saadat Nazeer
Ghazalغزل
gham khushi hasrat havas ummid-o-yaas
غم خوشی حسرت ہوس امید و یاس زندگی ہنگامۂ جذبات ہے کوئی دل کو اپنے کس کس سے بچائے ہر ادا اس شوخ کی اک گھات ہے ترک الفت اور ہم آشفتہ سر شیخ صاحب واہ وا کیا بات ہے بڑھ گیا کچھ اور بھی جوش جنوں چاندنی ہے یا تمہاری گھات ہے حسن کی ہر بات اک افسانہ ہے عشق کا افسانہ بھی اک بات ہے پھر بھڑک اٹھی ہمارے دل کی آگ پھر وہی ہم ہیں وہی برسات ہے آپ کی ہر بات میں ہے ایک بات اے سعادتؔ اپ کی کیا بات ہے
kaun martaa hai zindagi ke liye
کون مرتا ہے زندگی کے لیے جی رہا ہوں تری خوشی کے لیے یہ محبت نہیں تو پھر کیا ہے آدمی تڑپے آدمی کے لیے دیکھیے کیا ہے شام غم کا حال کوئی بے تاب ہے کسی کے لیے کبھی ہم نے جو خواب دیکھا تھا دل مچلتا ہے پھر اسی کے لیے غم جاناں غم جہاں غم ذات لاکھ غم ایک آدمی کے لیے تھی کسے انتظار کی مہلت پھر بھی تڑپا ہے دل کسی کے لیے ہے تقاضائے زندگی کہ نظیرؔ غم اٹھاتے ہیں سب خوشی کے لئے
vo zindagi jo shab-e-intizaar guzri thi
وہ زندگی جو شب انتظار گزری تھی ترے کرم سے بہت خوش گوار گزری تھی غضب کہ آج وہی دل ہے غم کش دنیا نگاہ ناز بھی کل جس پہ بار گزری تھی سکوں نصیب وہی اب ہیں جن کی عمر کبھی حریف گردش لیل و نہار گزری تھی فریب نور سحر دے گئی نگاہوں کو جو برق رات سر شاخسار گزری تھی زمانہ آج قیامت سمجھ رہا ہے جسے وہی تو سر سے مرے بار بار گزری تھی خبر ہے کس کو نشیمن کے چار تنکوں کی یہ جانتا ہوں صبا بے قرار گزری تھی نہ جانے کیوں ہے محبت کو پھر اسی کی تلاش وہ برہمی جو کبھی ناگوار گزری تھی نظیرؔ لالہ و گل پر نکھار ہے اب تک ہے کب کی بات چمن سے بہار گزری تھی
bahaar thi na chaman thaa na aashiyaana thaa
بہار تھی نہ چمن تھا نہ آشیانہ تھا عجیب رنگ میں گزرا ہوا زمانہ تھا بہ فیض خون جگر اب وہ ہو رہا ہے چمن کبھی جو میرے مقدر سے قید خانہ تھا حدود کون و مکاں میں بھی جو سما نہ سکا مری حیات کا وہ مختصر فسانہ تھا نظر میں دیر و حرم تھے کہ میں سمجھ نہ سکا جہاں جھکی تھی جبیں ان کا آستانہ تھا بس اتنا یاد ہے مجھ کو کہ برق چمکی تھی پھر اس کے بعد چمن تھا نہ آشیانہ تھا فریب حسن میں آئے تو یہ ہوا معلوم جہاں میں ایک یہی زیست کا بہانہ تھا جنون شوق کا اک یہ بھی معجزہ ہے نظیرؔ وہی ہے آج حقیقت جو کل فسانہ تھا
bulbul kahin hai phuul kahin baaghbaan kahin
بلبل کہیں ہے پھول کہیں باغباں کہیں اللہ پھر دکھائے نہ ایسا سماں کہیں گم گشتگان شوق کا عالم نہ پوچھئے رہبر کہیں ہے راہ کہیں کارواں کہیں کر تو رہے ہیں وہ مری بربادیوں کی فکر خود ان کی گھات میں نہ ہوں بربادیاں کہیں ہنستے ہو میرے دامن صد چاک پر ہنسو پرچم بنیں نہ فتح کا یہ دھجیاں کہیں انجام ضبط درد ہے دنیا کے سامنے بجلی کہیں گری تو چلیں آندھیاں کہیں یہ بھی خبر نہیں کہ گیا قافلہ کدھر ہم تو وہیں کے ہو رہے ٹھہرے جہاں کہیں چھٹ جائے اے نظیرؔ نہ دامن یقین کا گمراہ کر نہ دیں تجھے وہم و گماں کہیں





