SHAWORDS
Sabahat Urooj

Sabahat Urooj

Sabahat Urooj

Sabahat Urooj

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ham ne is dhuup se amaan ke liye

ہم نے اس دھوپ سے اماں کے لئے جسم تانے ہیں سائباں کے لئے آنکھ منظر سے آشنا ہی نہیں لفظ ڈھونڈے ہیں پھر زباں کے لئے مجھ پہ پھینکے گئے تھے جو پتھر میں نے رکھے ہیں وہ مکاں کے لئے خود فریبی تو اب نہیں ممکن خواب دیکھے ہیں بس جہاں کے لئے ہم جو بھیجے گئے ہیں دنیا میں ایک طعنہ ہیں آسماں کے لئے کوئی خواہش ادھوری رہ جائے کوئی حیلہ ہو اب فغاں کے لئے جن کی منزل انہیں میسر ہو وہ نکلتے ہیں پھر کہاں کے لئے ہم اداسی کی اک شبیہ ہیں اب استعارہ ہیں ہم خزاں کے لئے

غزل · Ghazal

ziist mahv-e-sahaab ho jaise

زیست محو سحاب ہو جیسے مجھ میں تیرا شباب ہو جیسے اس عقیدت سے چپ ہی رہتے ہیں تیری سننا ثواب ہو جیسے رکھ کے سر پہ گلی میں بیچی ہے یہ محبت عذاب ہو جیسے اس کی نظروں میں دیر تک دیکھا میری آنکھوں کا خواب ہو جیسے تیرے در پہ سکوں نہیں ملتا میری نیت خراب ہو جیسے اس کے خط کو سنبھال رکھا ہے اک مقدس کتاب ہو جیسے ایسے رکھا رہا کتابوں میں حسن اس کا گلاب ہو جیسے جستجو کی یہ موت ہے صاحب تیرا ملنا سراب ہو جیسے

غزل · Ghazal

jism se rahguzar banaate hain

جسم سے رہ گزر بناتے ہیں آ محبت کو شر بناتے ہیں صرف دیوار و در بناتے ہیں اور دعویٰ ہے گھر بناتے ہیں خود کو بار دگر بناتے ہیں اور اب سوچ کر بناتے ہیں آج لکڑی کے جوڑ کر تختے ڈوب جانے کا ڈر بناتے ہیں جن کے پاؤں وہ کاٹ لیتے ہیں ان کے جسموں پہ سر بناتے ہیں یہ لٹیرے ہی میرے محسن ہیں بند گلیوں میں در بناتے ہیں اس نے اڑنا ہے اور سمتوں میں آئیے بال و پر بناتے ہیں ہم نے جانا نہیں کہیں بھی تو کیوں یہ راہ سفر بناتے ہیں اب صباحتؔ خدا بنے ہیں وہ اب وہ شمس و قمر بناتے ہیں

غزل · Ghazal

ek tamannaa aisi jo darkaar nahin

ایک تمنا ایسی جو درکار نہیں ایک پہیلی ہے جو پر اسرار نہیں کہیں پہ گھر خالی ہے کوئی لوگ نہیں کہیں پہ لوگ بہت ہیں پر دیوار نہیں تیرا اس کو چھوڑ کے جینا ایسا ہے ایک کہانی پوری ہے کردار نہیں ملنے کی امید کہیں پر رکھی ہے بوجھ کسی کے ہجر کا ہے جو بار نہیں ایک سہولت حاصل ہو جائے مجھ کو اس کی خاطر لیکن میں تیار نہیں بھاؤ نہیں معلوم کہ کس کا کتنا ہے میں بے مول تو ہوں لیکن بے کار نہیں ہم آہنگ بھی ہوتے ہیں پر دنیا میں تیرے میرے جیسی کچھ تکرار نہیں کم ہے لیکن اچھا خاصا لکھا ہے شعر کا مطلب شعر ہے اب انبار نہیں

غزل · Ghazal

dil taaffun se bhar gayaa hogaa

دل تعفن سے بھر گیا ہوگا میں محبت کو گاڑ آئی تھی چند رشتے وہیں پہ ڈوبے تھے میرے گاؤں میں باڑھ آئی تھی آج رسی خرید لائی ہوں دھول پنکھے سے جھاڑ آئی تھی یہ اداسی کہاں سے پھوٹ پڑی میں تو جڑ سے اکھاڑ آئی تھی تم مری زندگی سنوارو گے جس کو میں خود بگاڑ آئی تھی بس مجھے ایک گھر بسانا تھا پوری بستی اجاڑ آئی تھی

Similar Poets