Sabeeha Farhat Sambhali
Sabeeha Farhat Sambhali
Sabeeha Farhat Sambhali
Ghazalغزل
mire sheron mein aks-e-zindagi hai
مرے شعروں میں عکس زندگی ہے جو دیکھا ہے سدا لکھا وہی ہے مسرت ہے نہ آنکھوں میں نمی ہے طبیعت میں عجب افسردگی ہے لگی تھیں جس نشیمن پر نگاہیں اسی پر تاک کے بجلی گری ہے نہ سمجھے محسنوں کی جو اذیت بھلا کس کام کا وہ آدمی ہے مسافت ہے تھکن ہے اور میں ہوں مرے ہمراہ میری بے کسی ہے ہر اک کے دل میں ہے بغض و عداوت یہ کیسا شہر امن و آشتی ہے مفاعیلن مفاعیلن فعولن غزل اس بحر میں فرحتؔ تلی ہے
maanjhi buDhaa naav puraani
مانجھی بوڑھا ناؤ پرانی اور ہوائیں ہیں طوفانی اس پر طرہ تاریکی ہے اور ندی میں ہے طغیانی مل پائے گی منزل کیسے برکھا رت ہے گہرا پانی خلق وفا ایثار کی باتیں لگتی ہیں اب مثل کہانی پیری دور خزاں کی مظہر اور بہاراں عہد جوانی فرحتؔ غم کے دو پہلو ہیں خشک لبی اور تر دامانی
zaahir mein to majmua-e-ashaar ghazal hai
ظاہر میں تو مجموعۂ اشعار غزل ہے باطن میں مہکتا ہوا گلزار غزل ہے مطلع سے بصد شان نمودار غزل ہے دامن میں سمیٹے ہوئے افکار غزل ہے آنکھوں سے لگاؤ کہ اسے دل میں بساؤ احباب کی مانند طرح دار غزل ہے کیسے نہ کریں اہل نظر اس کی ستائش پھولوں سی حسیں اور مہک دار غزل ہے فرحتؔ ہے روا جب سے ستم اردو زباں پر آلام و مصائب میں گرفتار غزل ہے





