SHAWORDS
Sabiha Khan

Sabiha Khan

Sabiha Khan

Sabiha Khan

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

hai vafaa tujh mein to paaband-e-vafaa huun main bhi

ہے وفا تجھ میں تو پابند وفا ہوں میں بھی مجھ سے مل بیٹھ محبت کی فضا ہوں میں بھی جب بھی آ جائے خیال ان کو دل مضطر کا لب پہ بے ساختہ آئے وہ دعا ہوں میں بھی ہم سفر بن کے ملے یا بنے رہبر اپنا کوئی تو پوچھے کہ منزل کا پتا ہوں میں بھی گونج سی بن کے فضاؤں میں جو ہو جاتی ہے گم مجھ کو لگتا ہے کہ صحرا کی صدا ہوں میں بھی میں نے چاہا ہے دل و جاں سے صبیحہؔ جس کو وہ کبھی آئے کہے تجھ پہ فدا ہوں میں بھی

غزل · Ghazal

khud ko ahl-e-vafaa samajhte hain

خود کو اہل وفا سمجھتے ہیں اوروں کو بے وفا سمجھتے ہیں پار کشتی لگا کے دکھلائیں خود کو گر ناخدا سمجھتے ہیں خامیاں دوسروں کی گنوائیں خود کو جو پارسا سمجھتے ہیں کہہ بھی ڈالیں زبان سے اپنی جو برا یا بھلا سمجھتے ہیں اک نئی زندگی ہے بعد از مرگ لوگ اسے انتہا سمجھتے ہیں حرص و طمع کی دوڑ جاری ہے سب اسی میں بقا سمجھتے ہیں کس طرح جان لوں صبیحہؔ کو اپنے دل میں وہ کیا سمجھتے ہیں

غزل · Ghazal

be-sabab ham se vo bezaar nazar aate hain

بے سبب ہم سے وہ بیزار نظر آتے ہیں دکھ کے ہر چار سو انبار نظر آتے ہیں کل تلک جن کو تھی ہم سے نسبت ہمدم آج غیروں کے طلب گار نظر آتے ہیں جب بھی تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھوں عظمت رفتہ کے مینار نظر آتے ہیں کس کو فرصت ہے یہاں دوسروں کے غم بانٹے لوگ خوشیوں کے خریدار نظر آتے ہیں گرد میں کارواں کی آج مجھے مبہم سے دور منزل کے کچھ آثار نظر آتے ہیں خیر کی جن سے کسی کو نہ تھی کوئی امید وہ بھی اب مائل ایثار نظر آتے ہیں آخرش گزری ‎صبیحہؔ یہ اندھیری شب بھی خیر سے صبح کے آثار نظر آتے ہیں

Similar Poets