
Sabiha Saba
Sabiha Saba
Sabiha Saba
Ghazalغزل
اک تری یاد سے یادوں کے خزانے نکلے ذکر تیرا بھی بھی محبت کے بہانے نکلے ہم نے سمجھا تھا کہ دل ہے ترا مسکن لیکن جانے والوں کے کہیں اور ٹھکانے نکلے پھر مرے کان میں گونجی ہیں دعائیں تیری تیری آغوش میں غم اپنے چھپانے نکلے ایک خوشبو کی طرح گاہے بگاہے آنا کتنے سندر ترے کچھ روپ سہانے نکلے دل میں کچھ ٹوٹنے لگتا ہے ترے ذکر کے ساتھ چند آنسو تری الفت کے بہانے نکلے میں تو اک روپ ہوں تیرا یہی کافی ہے صباؔ اب اسی رنگ سے اس دل کو سجانے نکلے
ik tiri yaad se yaadon ke khazaane nikle
جان گئے تو مان لیا یوں تجھ کو پہچان لیا دنیا بھیدوں والی نے کیسا پردہ تان لیا دل والوں کی بستی سے تو نے کیا سامان لیا مشکل سے حل ہوتا ہے قصہ جو آسان لیا کیا مانیں ہم دل کی بات دل بھی تو نادان لیا منزل پھر بھی دور رہی صحراؤں کو چھان لیا میٹھے میٹھے بولوں کا دل نے کیسا دان لیا
jaan gae to maan liyaa
یہ دل کی داستان ہے کہ دل غلام کر دیا عجیب لوگ آپ ہیں عجیب کام کر دیا تمہاری یہ سخاوتیں تمہاری یہ عنایتیں جو غم تمہارے پاس تھا ہمارے نام کر دیا دلوں کا بھید کھل گیا تو پھر عجیب رنگ میں دبی دبی سی بات کو کسی نے عام کر دیا کسی کو سرخ رو کیا کسی کی بزم شوق میں ذرا ذرا سی بات پر یہ اہتمام کر دیا کبھی ہمیں برا لگا کبھی ہمیں بھلا لگا ہمارے دل کی بات کو کسی نے عام کر دیا اڑان خوب تر ہوئی جو پنچھیوں کی ڈار کی تو گھیر گھار کر کسی نے زیر دام کر دیا
ye dil ki daastaan hai ki dil ghulaam kar diyaa
جب کبھی حادثات نے مارا یوں لگا کائنات نے مارا وہ جو منصور کی ادا ٹھہری اس کو اظہار ذات نے مارا لوگ دنیا کا غم اٹھاتے ہیں ہم کو چھوٹی سی بات نے مارا ہم نہ منہ پھیر کر گزر پائے چند لمحوں کے سات نے مارا دن تو کٹ ہی گیا تھا ان کا مگر کم نصیبوں کو رات نے مارا موت کا دم صبا غنیمت ہے ورنہ پل پل حیات نے مارا
jab kabhi haadsaat ne maaraa
اگر نہیں ہے اجازت سوال مت کرنا اور اپنے دل میں زیادہ ملال مت کرنا نہیں تھی کوئی خبر کیا ہے آس پاس مرے میں اپنی سوچ میں گم تھی خیال مت کرنا خوشی سے گزرے یہ سب کے لئے تو اچھا ہے یہ زندگی ہے اسے بھی وبال مت کرنا صباؔ جو آئے گی مشکل وہ حل بھی کر لیں گے خود اپنے واسطے جینا محال مت کرنا
agar nahin hai ijaazat savaal mat karnaa





