SHAWORDS
Sabiha Sadaf

Sabiha Sadaf

Sabiha Sadaf

Sabiha Sadaf

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

adhuri si kahaani ko na tum samjhe na ham samjhe

ادھوری سی کہانی کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے ہماری زندگانی کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے ہمارے درمیاں کا فاصلہ کم ہو بھی سکتا تھا ذرا سی بد گمانی کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے محبت پھول بھی خوشبو بھی شعلہ بھی ہے شبنم بھی اسی طرز بیانی کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے نگاہوں سے نگاہوں پر عیاں ہر راز تھا لیکن نظر کی ترجمانی کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے صدفؔ آئیں بہاریں پھر پیام رنگ و بو لے کر مگر اس رت سہانی کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

غزل · Ghazal

gardish-e-vaqt se laDnaa hai jhagaDnaa hai abhi

گردش وقت سے لڑنا ہے جھگڑنا ہے ابھی چڑھتے سورج ہیں ہمیں اور ابھرنا ہے ابھی حوصلے دورئ منزل سے نہ تھک جائیں کہیں کتنی پر خار سی راہوں سے گزرنا ہے ابھی نوک مژگاں پہ اتر آئے ہیں آنسو ایسے ابر باراں کی طرح جیسے برسنا ہے ابھی اس کو خوابوں میں بسا رکھا ہے خوشبو کی طرح اور تعبیر تلک اس کو ٹھہرنا ہے ابھی ٹھوکریں ہم کو سنبھلنے کا سبق دیتی ہے بارہا تم کو صدفؔ گرنا سنبھلنا ہے ابھی

غزل · Ghazal

kahaan kahaan tujhe DhunDun kahaan kahaan dekhun

کہاں کہاں تجھے ڈھونڈوں کہاں کہاں دیکھوں دکھائی کیوں نہیں دیتا ہے میں جہاں دیکھوں فضا میں پھیل رہا ہے اب انتشار بہت نہ جانے کتنے ہی چہرے دھواں دھواں دیکھوں کسی کے سامنے ظاہر نہ ہوں مرے حالات خدایا تجھ کو فقط فقط اپنا رازداں دیکھوں زمیں پہ پھر کہیں وحشت نے سر ابھارا ہے لہو کے رنگ میں پھر آج آسماں دیکھوں یہ آرزو کہ میرے عشق کو ملے معراج نماز عشق پڑھوں ہجر بے کراں دیکھوں بہار آئے گی دل کو ہے اب یقین مرے خیال و خواب میں پھولوں کے کارواں دیکھوں بنی ہے دل میں مگر رخ سے بات ہے ظاہر صدفؔ کے چہرے کو میں دل کا آئنہ دیکھوں

غزل · Ghazal

hosh-o-khirad se duur duur vahm-o-gumaan ke aas-paas

ہوش و خرد سے دور دور وہم و گماں کے آس پاس کرتا ہے دل طواف کیوں دشمن جاں کے آس پاس محو خیال یار ہوں مجھ کو غرض کسی سے کیا رہتا ہے اک حصار سا اب جسم و جاں کے آس پاس اک شور خامشی میں ہے اک زندگی ہے موت سی دہشت کا اک ہجوم ہے امن و اماں کے آس پاس گردش ماہ و سال نے ایسا کیا نڈھال بس گھبرا کے اٹھ گئے قدم دار اماں کے آس پاس تجھ سے ہمارا کچھ نہیں رشتہ تو پھر بتا مجھے رہتا ہے تو مقیم کیوں ایوان جاں کے آس پاس یہ عشق کا جنون ہے اس درد میں سکون ہے پہرا لگا ہے درد کا آہ و فغاں کے آس پاس بس ہو نگاہ ملتفت جان و جگر بحال ہو بیٹھے ہیں ملتجی سبھی محفل‌ جاں کے آس پاس لگتا ہے اے صدفؔ ترے عشق نے پا لیا عروج ٹھہرا ہوا ہے دل ترا سوز نہاں کے آس پاس

Similar Poets