
Sabiha Sumbul
Sabiha Sumbul
Sabiha Sumbul
Ghazalغزل
کون ایسا ہے یہاں دل سے مجھے یاد کرے وقت تھوڑا سا مرے واسطے برباد کرے ہو گئیں بستیاں ویران یہاں پل بھر میں کوئی تو آئے جو پھر سے انہیں آباد کرے پا بہ زنجیر کوئی دار پہ منصور نہیں حق کی باتوں پہ بھلا کون یہاں صاد کرے کیسا پندار ہے دل قید ہیں خوشیاں جس میں ان پرندوں کو ہی آزاد یہ صیاد کرے مردہ جسموں میں مقید ہیں تڑپتی روحیں کوئی زندان نہاں سے انہیں آزاد کرے جس کی بنیاد محبت کی ہو ضامن سنبلؔ ایسا اک شہر یہاں کوئی تو آباد کرے
kaun aisaa hai yahaan dil se mujhe yaad kare
دل میں ان کی یادوں کے جب دئے جلاتے ہیں دامن تخیل پر پھول مسکراتے ہیں تم شکست دل پر کیوں اس قدر پریشاں ہو آئینوں کا کیا وہ تو یوں ہی ٹوٹ جاتے ہیں آپ سے تو قربت میں فاصلے رہے قائم لوگ تو قریب آ کر راہ بھول جاتے ہیں رات یوں گزرتی ہے کشمکش کے ماروں کی اک دیا جلاتے ہیں اک دیا بجھاتے ہیں جب نگاہ پڑتی ہے زندگی کے چہرے پر آنکھیں ڈبڈباتی ہیں ہونٹ تھرتھراتے ہیں یاد سے مزین ہے آج بھی دل سنبلؔ لوگ بیتے لمحوں کو کس طرح بھلاتے ہیں
dil mein un ki yaadon ke jab diye jalaate hain
یہ مانا تم ہو زمانے کے با کمالوں میں تو ہم بھی خود کو سمجھتے ہیں بے مثالوں میں وفا کا نام نہیں شہر کے غزالوں میں ملے گا زہر یہاں مد بھرے پیالوں میں مہک اٹھا ہے مری آرزو کا شیش محل یہ کون آ کے بسا ہے مرے خیالوں میں ہمارے پاس تھا ہر بات کا جواب مگر الجھ کے رہ گئے ہم آپ کے سوالوں میں ہم ان کے ہنسنے کا انداز کیا کہیں سنبلؔ کہ جیسے دور بجیں گھنٹیاں شوالوں میں
ye maanaa tum ho zamaane ke baa-kamaalon mein
جب عزم کے شعلوں کو ہمت نے ہوا دی ہے طوفاں نے ہی ساحل کی تصویر دکھا دی ہے شعلوں سے گلہ کیسا بجلی سے شکایت کیا گلشن کے نگہباں نے ہر شاخ جلا دی ہے چاہا تھا کریں ان سے کچھ شکوۂ بے مہری لب ہلنے سے پہلے ہی سوگند کھلا دی ہے اک وہ بھی ہیں مرتے ہیں جو ننگ وفا بن کر ہر وار پہ ہم نے تو قاتل کو دعا دی ہے کانپ اٹھا ہے جانے کیوں ہر تار نفس سنبلؔ جب میرے بزرگوں نے جینے کی دعا دی ہے
jab azm ke shoalon ko himmat ne havaa di hai
میں بکھر نہ جاؤں ورق ورق مجھے طاق دل میں سجائیے مرا حرف حرف ہے بے بہا مجھے اس طرح نہ مٹائیے ہے کدورتوں کے حصار میں یہ محبتوں کا حسیں نگر یہ دیار آب حیات ہے اسے سم کدہ نہ بنائیے کوئی عکس تک نہ ٹھہر سکا مری چشم فکر و خیال میں ابھی اجنبی سے ہیں خال و خد مجھے آئنہ نہ دکھائیے پس ظلم آپ کی بخششیں یہ عنایتیں یہ سخاوتیں کوئی مانگ بیٹھے نہ خوں بہا یہ لہو کے داغ چھپائیے ہو دلوں میں حسن قلندری ہو زباں پہ نعرۂ سرمدی جو ہلا دے تخت سکندری وہی کج کلاہی دکھائیے ہے خزاں کی زد پہ ابھی تلک رخ سنبلؔ دل یاسمیں ابھی انتظار کا وقت ہے ابھی جشن گل نہ منائیے
main bikhar na jaaun varaq varaq mujhe taaq-e-dil mein sajaaiye





