
Sabihuddin Shoaiby
Sabihuddin Shoaiby
Sabihuddin Shoaiby
Ghazalغزل
جسے خود سے جدا رکھا نہیں ہے وہ میرا ہے مگر میرا نہیں ہے جسے کھونے کا مجھ کو ڈر ہے اتنا اسے میں نے ابھی پایا نہیں ہے نقوش اب ذہن سے مٹنے لگے ہیں بہت دن سے اسے دیکھا نہیں ہے سنا ہے پھول اب کھلتے نہیں ہیں تو کیا کھل کر وہ اب ہنستا نہیں ہے نگر چھوڑا ہے جب سے اس غزل نے کوئی شاعر غزل کہتا نہیں ہے تری یادوں سے روشن ہے مرا دل یہ وہ سورج ہے جو ڈھلتا نہیں ہے مری آنکھوں کا یہ دریا عجب ہے کہ بہتا ہے تو پھر تھمتا نہیں ہے خوشی کا ہو کوئی یا غم کا لمحہ گزر جاتا ہے کیوں رکتا نہیں ہے صبیحؔ و خوبرو چہرے کئی ہیں مگر کوئی بھی اس جیسا نہیں ہے
jise khud se judaa rakkhaa nahin hai
سوچتا ہوں میں کہ کچھ اس طرح رونا چاہیے اپنے اشکوں سے ترا دامن بھگونا چاہیے زندگی کی راہ پر کیسے اکیلے ہم چلیں اس سفر میں ہم سفر کوئی تو ہونا چاہیے دل بہت چھوٹا ہے میرا اور جہاں میں غم بہت میں پریشاں ہوں کسے کیسے سمونا چاہیے بچہ روتا ہے مگر روتا ہے وہ تقدیر پر ماں سمجھتی ہے کہ منے کو کھلونا چاہیے اجنبی بستر یہ بولا رات کے پچھلے پہر اے صبیحؔ بے وطن اب تجھ کو سونا چاہیے
sochtaa huun main ki kuchh is tarah ronaa chaahiye
یوں شہر کے بازار میں کیا کیا نہیں ملتا پر حسن میں ثانی کوئی تیرا نہیں نہیں ملتا جو کچھ دل ناکام نے چاہا نہیں ملتا منزل نہیں ملتی کبھی رستا نہیں ملتا لہجہ نہیں ملتا کبھی چہرہ نہیں ملتا دنیا میں ہمیں ایک بھی تم سا نہیں ملتا چھوڑا ہے جو اک گھر کو تو دوجا نہیں ملتا اب دل سا ترے کوئی ٹھکانہ نہیں ملتا آتی ہے خوشی گر تو وہ ملتی ہے ادھوری غم جب کبھی ملتا ہے اکیلا نہیں ملتا
yuun shahr ke baazaar mein kyaa kyaa nahin miltaa
رہ گیا دنیا میں وہ بن کر تماشا عمر بھر جس نے اپنی زندگی کو کھیل سمجھا عمر بھر تم امیر شہر کے گھر کو جلا کر دیکھنا گھر میں ہو جائے گا مفلس کے اجالا عمر بھر ایسا لگتا ہے کہ اب وہ قبر تک جائے گی ساتھ دل کے خانوں میں نہاں تھی جو تمنا عمر بھر قرض میری قوم وہ کیسے چکائے گی بھلا سود خود کو بیچ کر جس کا اتار عمر بھر جانتا ہوں مجھ کو ڈس لے گا وہ مار آستیں جس کو اپنا خوں پلا کر میں نے پالا عمر بھر زندگی نعمت تھی جس کو پا کے تم خوش تھے صبیحؔ اب کہو کیا زندگی سے تم نے پایا عمر بھر
rah gayaa duniyaa mein vo ban kar tamaashaa umr bhar
جس کو اتنا چاہا میں نے جس کو غزل میں لکھا چاند چھوڑ گیا ہے مجھ کو کیسے آج وہ میرا اپنا چاند اپنے چاند کی سوچوں میں گم بیٹھا تھا تنہائی میں جانے میرے دل کے سونے آنگن میں کب نکلا چاند چھپ جائے کبھی سامنے آئے کھیلے آنکھ مچولی کیوں میری جان مجھے لگتا ہے بالکل تیرے جیسا چاند دکھ ہو سکھ ہو رنج خوشی ہو مشکل ہو یا آسانی ہر موسم میں ساتھ نبھائے میرا یار پرانا چاند نفسا نفسی کا عالم ہے سب کو اپنی فکر پڑی اپنی دھرتی اپنا امبر اپنا سورج اپنا چاند چہروں سے خوشیاں اوجھل ہیں اور غموں سے دل بوجھل اب کے اپنے دیس میں نکلا عید پہ جانے کیسا چاند
jis ko itnaa chaahaa main ne jis ko ghazal mein likkhaa chaand





