SHAWORDS
Sabir Aarwi

Sabir Aarwi

Sabir Aarwi

Sabir Aarwi

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

تو میکدہ میں اک ایسا نظام پیدا کر کہ سب کے لب کو جو پہنچے وہ جام پیدا کر ردائے ہجر میں لپٹی رہے طبیعت شوق سحر کی یاد بھلا دے وہ شام پیدا کر لبوں پہ نام اگر آ گیا تو فخر نہیں جو ہو سکے تو دلوں میں مقام پیدا کر سخن محال نہیں ان کی انجمن میں مگر بس اتنی شرط ہے اک خوش کلام پیدا کر

tu mai-kada mein ik aisaa nizaam paidaa kar

3 views

غزل · Ghazal

یوں جوانی آئی رخصت ہو گئی آئنہ دیکھا تو حیرت ہو گئی بڑھ گئی کچھ اور توقیر جنوں اپنا گھر دیکھا تو وحشت ہو گئی چھپ چھپاتے پھر رہے تھے آج تک آج طشت از بام غربت ہو گئی جستجو کے پاؤں تھک کر رہ گئے دورئ منزل قیامت ہو گئی آپ کے آنے سے بس اتنا ہوا کچھ تو تسکین طبیعت ہو گئی آئے بیٹھے اور اٹھ کر چل دئے کس قدر جلدی قیامت ہو گئی

yuun javaani aai rukhsat ho gai

2 views

غزل · Ghazal

کاروبار زندگی سے جس کا دل گھبرائے گا یار کی زلف رسا کے سائے میں آ جائے گا تذکرہ رخسار کا یا ذکر زلف یار ہو کیف آنکھوں میں یقیناً کچھ نہ کچھ چھا جائے گا جو مناظر آج تک تم نے کبھی دیکھے نہیں کوئی تم کو وہ مناظر ایک دن دکھلائے گا اب کرم فرمائیاں ہوں یا عتاب ناز ہو آپ کے دست کرم سے دل صلہ کچھ پائے گا وقت کی الجھی ہوئی زلفیں سنواریں کس طرح اہل دل کو یہ سلیقہ خود بخود آ جائے گا آپ پہلے ہنس کے غم کھاتے رہے صابرؔ مگر اب یہی غم رفتہ رفتہ آپ کو کھا جائے گا

kaarobaar-e-zindagi se jis kaa dil ghabraaegaa

2 views

غزل · Ghazal

زلف شب کا سایہ بھی کس قدر گھنیرا ہے دل سے ان کی محفل تک راستہ اندھیرا ہے عارض تبسم پر غازۂ تکلف کیوں مسکرا کے دیکھو تو ہر طرف سویرا ہے شاخ گل سی باہیں ہوں یا خنک ہوائیں ہوں طائر تخیل کا کب کہیں بسیرا ہے ان کا نام جب لیں گے دل ضرور دھڑکے گا ان کی یاد کا جب تک میرے دل میں ڈیرا ہے دامن محبت میں آنسوؤں کے موتی ہیں یا چمن میں شبنم نے لعل و زر بکھیرا ہے تم متاع غم صابرؔ جیسے ہو بچا لینا رہزنوں کی بستی ہے ڈاکوؤں کا ڈیرا ہے

zulf-e-shab kaa saaya bhi kis qadar ghaneraa hai

1 views

غزل · Ghazal

کنج تنہائی کے افکار میں کیا رکھا ہے ذکر زلف و لب و رخسار میں کیا رکھا ہے اے غم زیست ترا ساتھ غنیمت ہے مجھے ورنہ اب صرف غم یار میں کیا رکھا ہے پہلے ہی کھل گیا انکار سے محفل کا بھرم اور اب آپ کے اقرار میں کیا رکھا ہے مرحبا عزم جواں لے کے نکلنے والو اس جہاں کے رسن و دار میں کیا رکھا ہے اپنے جب ہو نہ سکے غیر کی ہم سمت چلے ورنہ اس کوچۂ اغیار میں کیا رکھا ہے کل تلک آپ کے قابل تھا یہی دل صابرؔ ہاں مگر اک دل بیمار میں کیا رکھا ہے

kunj-e-tanhaai ke afkaar mein kyaa rakkhaa hai

1 views

Similar Poets