
Sabir Afaqi
Sabir Afaqi
Sabir Afaqi
Ghazalغزل
کسی ظالم کی جیتے جی ثنا خوانی نہیں ہوگی کہ دانا ہو کے مجھ سے ایسی نادانی نہیں ہوگی دل آباد کا سا کوئی شہر آباد کیا ہوگا دل ویران کی سی کوئی ویرانی کہاں ہوگی عدو سے کیا گلہ کرنا کہ وہ معذور لگتا ہے ہماری قدر و قیمت اس نے پہچانی نہیں ہوگی نجومی میں نہیں لیکن یہ اندازے سے کہتا ہوں محبت تو رہے گی پر یہ ارزانی نہیں ہوگی علاج اصل ہے اک آزمودہ نسخہ دنیا میں پریشاں تم رہو گے تو پریشانی نہیں ہوگی کھلا دروازہ رکھ چھوڑا ہے جب جی چاہے آ جانا اجی اب ہم سے اپنے گھر کی دربانی نہیں ہوگی نہ تم آئے تو صابرؔ کیا مزہ آئے گا محفل میں غزل خوانی تو ہوگی پر گل افشانی نہیں ہوگی
kisi zaalim ki jite-ji sanaa-khvaani nahin hogi
نہ کسی میں نظر آئی یہ کرامت مجھ کو ورنہ کیوں سونپتے دنیا کی امامت مجھ کو ایک مدت سے مجھے ڈھونڈ رہے تھے احباب اب ملا ہوں تو نہ چھوڑیں گے سلامت مجھ کو تو اگر میرا خدا ہے تو مرے پاس بھی آ دور افلاک سے دے اور صدا مت مجھ کو ان عذابوں سے بڑا اور کہاں کوئی عذاب سہل لگتا ہے بہت خوف قیامت مجھ کو روز دھرتی وہی دیکھوں وہی گردوں دیکھوں زہر لگتی ہے یہ عالم کی قدامت مجھ کو جانے کیوں بیٹھنے دیتا نہیں صابرؔ ہرگز ایک بے نام سا احساس ندامت مجھ کو
na kisi mein nazar aai ye karaamat mujh ko
جو بوئے زندگی مجھے کرن کرن سے آئی ہے حقیقتاً وہ آپ ہی کے پیرہن سے آئی ہے ہمارے جسم و روح کو سرور دے گئی وہی نسیم خوش گوار جو ترے بدن سے آئی ہے یہ کون شخص مر گیا یہ کس کا ہے کفن کہو؟ کہ زندگی کی بو مجھے اسی کفن سے آئی ہے طریقت نبرد میں ہمارا سلسلہ ہے اور! یہ خود کشی کی رسم بد تو کوہ کن سے آئی ہے کلی تو پھر کلی ہوئی مہک اٹھے ہیں خار بھی میں جانتا ہوں یہ نسیم کس چمن سے آئی ہے کھلے رکھے ہیں میں نے سارے رنگ و بو کے راستے مرے چمن کی یہ پھبن چمن چمن سے آئی ہے میں صابرؔ سخن طراز کیوں کسی کو دوش دوں کہ میرے سر پہ ہر بلا مرے سخن سے آئی ہے
jo bu-e-zindagi mujhe kiran kiran se aai hai





