
Sabir Chaudhri
Sabir Chaudhri
Sabir Chaudhri
Ghazalغزل
ترے خلاف ہو جو بھی وہ کامیاب نہ ہو خدا کرے تجھے الفت میں اضطراب نہ ہو مرے ادھار سے خائف ہے تو بھی پینے لگے جہاں جہاں بھی تو ڈھونڈے وہاں شراب نہ ہو مرے خدا ترے بندے نے کچھ نہیں پایا جو اب دکھایا ہے تو نے وہ صرف خواب نہ ہو خدا کرے کہ نئی نسل شعر کہنے لگے خدا کرے کہ نئی نسل یہ خراب نہ ہو میں تھک گیا ہوں کمینوں کی خیر خواہی میں میں ایسے کام کروں گا کہ اب ثواب نہ ہو میں رات خواب میں کچھ ڈھونڈھتا رہا صابرؔ سبھی ہوں پھول میسر مگر گلاب نہ ہو
tire khilaaf ho jo bhi vo kaamyaab na ho
ایسا بھی کیا ہو سکتا ہے ہنسنے والا رو سکتا ہے روتا ہوں کہ داغ یہ دل کا اشک ندامت دھو سکتا ہے جس نے دنیا داری چھوڑی مرضی سے وہ سو سکتا ہے راضی ہوں قسمت پر لیکن مرضی سے کچھ کھو سکتا ہے بچوں جیسا دل حاضر ہے کچھ بھی اچھا بو سکتا ہے بخیہ گر کیا خواب کسی پر اک تعبیر پرو سکتا ہے ضبط سے رکنے والا صابرؔ آنسو پتھر ہو سکتا ہے
aisaa bhi kyaa ho saktaa hai
نظر نشانے پہ تھی تیر بھی کمان میں تھا ہوا چلے گی اچانک کہاں گمان میں تھا مجھے بھی کرنا وہی تھا جو کر دیا اس نے پہ ایک خوف خدا تھا جو درمیان میں تھا زمیں کا بویا بھی کیا آسماں پہ کٹنا تھا کیے دھرے کا نتیجہ اسی جہان میں تھا ہزار رنگ تھے جو دشت میں بھٹکتے تھے اور ایک لمس بڑی دیر سے مچان میں تھا میں ایک عمر فلک پر نظر جمائے رہا پلٹ کے دیکھا تو وہ میرے ہی مکان میں تھا سو خاندان کی ساری دعائیں میری تھیں دعاؤں کے لیے بس میں ہی خاندان میں تھا ہماری عمر تھی صابرؔ دھواں اڑانے کی خبر نہیں تھی کہ حاصل تو خاکدان میں تھا
nazar nishaane pe thi tiir bhi kamaan mein thaa
بدن سے لڑتے ہوئے ضد پہ ڈٹ گیا اک دن جو ایک درد تھا آخر کو گھٹ گیا اک دن ہمارے چہرے کو چھوڑو یہ ایسا دکھتا ہے غبار وقت سے گر دل بھی اٹ گیا اک دن مزاج کوئی بھی رہتا نہیں ہے دیر تلک جو مجھ سے دور کھڑا تھا لپٹ گیا اک دن وہ آبلہ مری رفتار جو بڑھاتا تھا مسافتوں میں کہیں پر وہ پھٹ گیا اک دن فقیہ شہر جسے اختلاف تھا تجھ سے سدھر گیا کہ وہ رستے سے ہٹ گیا اک دن زوال آتا ہے صحرا پہ آج دیکھ لیا جو مجھ میں پھیلا ہوا تھا سمٹ گیا اک دن مجھے گماں تھا کہ میرا ہے صرف میرا ہے وہ ایک دریا تھا رستوں میں بٹ گیا اک دن کنارے تھا تو مسلسل اداس تھا صابرؔ سمندروں کو سفینہ پلٹ گیا اک دن
badan se laDte hue zid pe DaT gayaa ik din
اس بحث میں کیا پڑنا کسے بھول گئے ہیں ہم دشت میں کب پیڑ ہوئے بھول گئے ہیں کچھ قابل رشک اپنی محبت بھی نہیں تھی کچھ شہرت دوراں سے ڈرے بھول گئے ہیں میں گرد کو اوڑھے ہوئے مدت سے پڑا ہوں وہ ہاتھ کہیں رکھ کے مجھے بھول گئے ہیں اسباق ترے یاد ہیں احسان بھی سارے جا گردش ایام تجھے بھول گئے ہیں اب زخم کو تازہ کوئی رکھے بھی تو کیونکر اب یاد بھی کیا کرنا جسے بھول گئے ہیں ہم لمبی مسافت میں کسی ہاتھ سے چھوٹے ہم لوگ کہاں کس کو ملے بھول گئے ہیں ہم زنگ زدہ قفل کی تمثیل تھے صابرؔ کب کیسے کسی دل میں پڑے بھول گئے ہیں
is bahs mein kyaa paDnaa kise bhuul gae hain





