
Sabir Dehlavi
Sabir Dehlavi
Sabir Dehlavi
Ghazalغزل
mumkin nahin ki ishq mein gham se mafar mile
ممکن نہیں کہ عشق میں غم سے مفر ملے مر جاؤں میں قرار کی صورت اگر ملے کیا کیا نہ زندگی میں فریب نظر ملے رہزن تھے اصل میں جو ہمیں راہبر ملے لے کر تمہارا نام جہاں سے گزر گیا وہ ایک شخص جس سے نہ تم عمر بھر ملے دیر و حرم تو سجدوں کی آماجگاہ ہیں اس کا نصیب جس کو ترا سنگ در ملے امید و یاس و حسرت و ارمان و آرزو کیا کیا نہ راہ غم میں مجھے ہم سفر ملے ہو جائے ان کو اپنے پرائے میں امتیاز یا رب انہیں بھی چشم حقیقت نگر ملے دل کا مگر جواب نہیں راہ عشق میں ملنے کو یوں ہزار مجھے راہبر ملے اپنا کسے بنائیں کریں کس کا اعتبار نالے بھی ان کے حلقہ بگوش اثر ملے ناصح اہانت غم جاناں نہیں قبول لوں جان دے کے مجھ کو محبت اگر ملے پہلی نظر میں مجھ کو تو اپنا بنا لیا یعنی کچھ اس ادا سے جناب سحرؔ ملے صابرؔ جنون شوق نے آساں بنا دئے رستے میں جو مقام مجھے پر خطر ملے
junun-e-shauq ko divaana-pan kahnaa hi paDtaa hai
جنون شوق کو دیوانہ پن کہنا ہی پڑتا ہے یہاں تو راہبر کو راہزن کہنا ہی پڑتا ہے تصور کو ترے جلوہ فگن کہنا ہی پڑتا ہے ہمیں تنہائی کو بھی انجمن کہنا ہی پڑتا ہے یہ مجبوری یہ مایوسی یہ پابندی ارے توبہ مصیبت میں قفس کو بھی چمن کہنا ہی پڑتا ہے کچھ اس انداز کے مجھ سے مجھے آزار پہنچے ہیں ہر اک سے قصۂ رنج و محن کہنا ہی پڑتا ہے مٹانے میں مرے کوئی کمی تو نے نہ کی لیکن تجھے اس پر بھی روح جان و تن کہنا ہی پڑتا ہے جدھر دیکھا ہزاروں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ترے ابرو کو تیغ صف شکن کہنا ہی پڑتا ہے مآل باریابی کیا بتاؤں مختصر یہ ہے کہ شام غم کو بھی صبح وطن کہنا ہی پڑتا ہے
ishq ki barbaadiyon kaa ik yahi haasil sahi
عشق کی بربادیوں کا اک یہی حاصل سہی تو نہیں اپنا تو تیرا غم شریک دل سہی زندگی کو زندگی کی کچھ خوشی حاصل سہی درد محرومی سہی یا سوز درد دل سہی تو اگر ممکن نہیں تو غم بھی تیرا کم نہیں ایک شے حاصل سہی اور ایک بے حاصل سہی سامنے ان کے مگر پھر بھی نکل آتے ہیں اشک کتنے ہی پردوں میں پنہاں راز سوز دل سہی خیر ہو یا رب مرے عزم و یقیں کی خیر ہو لاکھ احساس فریب دوریٔ منزل سہی جستجو نے دوست آخر جستجوئے دوست ہے رہرو راہ طلب گم کردۂ منزل سہی اس کی ایک اک آن پر صابرؔ کے جان و دل نثار اصطلاح عام میں مشہور وہ قاتل سہی
mire jazbaat-e-rangin ki faraavaani nahin jaati
مرے جذبات رنگیں کی فراوانی نہیں جاتی کہ آنکھوں سے ترے جلوے کی تابانی نہیں جاتی فروغ حسن ہے یا میری نظروں کی یہ خامی ہے بہ ہر صورت تری تصویر پہچانی نہیں جاتی محبت آپ کی دل سے بھلا دوں کس طرح کیوں کر بہ مشکل شے جو آئی ہو بہ آسانی نہیں جاتی کہاں تو کھینچ لایا اے مذاق عاشقی مجھ کو جہاں مجھ سے مری تصویر پہچانی نہیں جاتی مجھے ترک تعلق پر نہ کر مجبور اے ناصح خلاف عقل کوئی بات ہو مانی نہیں جاتی تمہارے جور بے حد نے یہ بخشا ہے شرف مجھ کو شکست دل کی بھی آواز پہچانی نہیں جاتی کوئی صابرؔ سے دیوانے کو سمجھائے بھلا کیوں کر پرستار جنوں کی چاک دامانی نہیں جاتی
teraa munh gardish-e-ayyaam kahaan tak dekhun
تیرا منہ گردش ایام کہاں تک دیکھوں یہ بھیانک سحر و شام کہاں تک دیکھوں جذبۂ عشق کو ناکام کہاں تک دیکھوں ستم گردش ایام کہاں تک دیکھوں عشق کا شیوۂ خود کام کہاں تک دیکھوں یہ طلسم سحر و شام کہاں تک دیکھوں حسن کو لرزہ بر اندام کہاں تک دیکھوں عشق و یکسانیت عام کہاں تک دیکھوں او جفا کیش جفاؤں سے حذر لازم ہے تجھ کو یوں مورد الزام کہاں تک دیکھوں حرف آتا ہے تری شان کرم پر ساقی اپنے ہاتھوں کو تہی جام کہاں تک دیکھوں بے نیازی پہ تجھے ناز بجا ہے لیکن لب پہ آئے نہ مرا نام کہاں تک دیکھوں ایک جرعہ تو مجھے بھی ترے مے خانے کی دور سے دور مے و جام کہاں تک دیکھوں اب نہ وہ دل ہے نہ وہ دل کی امنگیں باقی اور اب عشق کا انجام کہاں تک دیکھوں بے رخی آپ کی میرے دل مجبور کا صبر کون آتا ہے مرے کام کہاں تک دیکھوں صید تو صید ہے صیاد بھی پھنس جاتا ہے تو نہ آئے گا تہ دام کہاں تک دیکھوں ایک ہی در پہ تری عمر کٹی اے صابرؔ یوں مجھے بندۂ بے دام کہاں تک دیکھوں





