SHAWORDS
S

Sabir Naseerabadi

Sabir Naseerabadi

Sabir Naseerabadi

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

jazbaat ke sho'lon ko dabaa kyon nahin lete

جذبات کے شعلوں کو دبا کیوں نہیں لیتے رسوائیوں سے خود کو بچا کیوں نہیں لیتے افلاس اگر بار گراں ہے تو عزیزو یہ بوجھ بھی مل جل کے اٹھا کیوں نہیں لیتے کب تک رہیں گے پیاسے زمانے کے یہ میکش ساقی کو سلیقے سے منا کیوں نہیں لیتے سوکھے ہوئے جسموں کا لہو چوسنے والے پیاس اپنے ہی جسموں سے بجھا کیوں نہیں لیتے بکھرے ہوئے گلشن کی شکایت ہے سبھی کو گلشن ہی نیا مل کے بنا کیوں نہیں لیتے نکلے ہیں زمانے کے اندھیروں کو مٹانے وہ دل کے اندھیروں کو مٹا کیوں نہیں لیتے احباب عجب لوگ ہیں جو آپ کو صابرؔ اپنا تو سمجھتے ہیں بنا کیوں نہیں لیتے

غزل · Ghazal

yahaan kisi ko kisi par bhi e'tibaar nahin

یہاں کسی کو کسی پر بھی اعتبار نہیں کوئی خلوص نہیں اور کوئی پیار نہیں وہ دیکھنے سے تعلق ضرور رکھتا ہے مگر مذاق نظر یوں بھی بار بار نہیں سنبھل کے سوچ کے چھونا شباب کی مے کو یہ وہ شراب ہے جس کا کوئی اتار نہیں تم اپنے ذہنوں کو شفاف کیوں نہیں رکھتے ہمارے شیشۂ دل پر کوئی غبار نہیں لٹا دی غیر کے نرغے میں ہر خوشی اپنی ہماری طرح کوئی بھی تو جاں نثار نہیں نظر سے موڑ دوں موج بلا مگر صابرؔ تری نظر میں یقیں صبر انکسار نہیں

غزل · Ghazal

nigaah-e-yaar mein dekhi hai be-rukhi main ne

نگاہ یار میں دیکھی ہے بے رخی میں نے قسم خدا کی نہ سوچا تھا یہ کبھی میں نے متاع کیف لٹا کر طلب کی راہوں میں ترے وجود کو بخشی ہے تازگی میں نے مرے لبوں پہ تبسم نہ ڈھونڈ اے ساقی غم حیات کو دے دی ہے ہر خوشی میں نے گناہ گار ہے تو بھی مری طرح ناصح سیاہی روح کے چہرے پہ دیکھ لی میں نے زمانہ بن گیا دشمن تو غم نہیں صابرؔ کسی کی زلف پریشاں سنوار دی میں نے

غزل · Ghazal

har shakhs apne aap se uljhaa dikhaai de

ہر شخص اپنے آپ سے الجھا دکھائی دے احساس کی چتا میں سلگتا دکھائی دے اس دور ارتقا کا یہ اعجاز کم نہیں ہر شخص اپنے قد سے نکلتا دکھائی دے قاتل کی دسترس سے بہت دور ہوں مگر خنجر مرے جگر میں اترتا دکھائی دے دھرتی کی کوکھ بانجھ نہیں مصلحت ہے یہ سبزہ تو پتھروں پہ بھی اگتا دکھائی دے سورج کو لالٹین دکھاتا ہے آدمی آنکھوں کے باوجود بھی اندھا دکھائی دے جدت پسندیوں کی ملی ہے مجھے سزا ہر شخص میرے خون کا پیاسا دکھائی دے صابرؔ جنون آرزو ہے وہ بلا جسے اپنا دکھائی دے نہ پرایا دکھائی دے

غزل · Ghazal

jo samaae the kabhi aankh mein taare ban kar

جو سمائے تھے کبھی آنکھ میں تارے بن کر آج آنکھوں میں سلگتے ہیں شرارے بن کر ڈوبنے والے سفینوں کو فنا ہونے دو اک نہ اک روز یہ ابھریں گے کنارے بن کر کارواں لوٹ لیا غیروں نے اس کا غم کیا غم ہے لوٹا ہمیں اپنوں نے سہارے بن کر خون مظلوم کا کب تک یہ زمیں چوسے گی جسم سے پھوٹے گا یہ آگ کے دھارے بن کر اپنی آنکھوں سے برستے ہیں جو موتی صابرؔ جگمگائیں گے کسی روز ستارے بن کر

غزل · Ghazal

milaa ke haath dilon mein kashidgi rakhnaa

ملا کے ہاتھ دلوں میں کشیدگی رکھنا کہاں کا ظرف ہے چاہت میں دشمنی رکھنا میں ڈھونڈ لوں گا اندھیروں میں راستہ اپنا تم اپنے گھر کے دریچے میں روشنی رکھنا پگھل نہ جائے کہیں لمس کی حرارت سے تم آئنے کو ذرا خود سے دور ہی رکھنا تمہیں قسم ہے مرے اعتبار کی خاطر ملو کسی سے تو لہجے میں تازگی رکھنا مرے دکھوں کو سمجھنا محال ہے صابرؔ کہ میں نے سیکھ لیا زیر لب ہنسی رکھنا

Similar Poets