SHAWORDS
S

Sabir Rampuri

Sabir Rampuri

Sabir Rampuri

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

اے یار ستم کیش و جفا کار خبر لے مرتا ہے ترے عشق کا بیمار خبر لے اس تیر جگر دوز سے جاں آ گئی لب پر مژگاں سے تری ہوں میں دل افگار خبر لے خالق سے دعا یہ ہے کہ یا رب کہیں جلدی وہ پردہ نشیں یار طرح دار خبر لے جلد آ کے ذرا دیکھ تو اے رشک مسیحا جاتا ہے عدم کو ترا بیمار خبر لے دشمن مرے سب دوست ہوئے عشق میں تیرے جب کوئی نہیں مونس و غم خوار خبر لے تقدیر پر اپنی نہ ہو کس طرح مجھے ناز ہے جائے تعجب کہ وہ دل دار خبر لے میں ہجر میں حیران و پریشاں رہوں کب تک للہ بت آئینہ رخسار خبر لے گھونگھٹ کو صنم بہر خدا رخ سے اٹھا دے صابرؔ ہے ترا طالب دیدار خبر لے

ai yaar-e-sitam-kesh-o-jafaa-kaar khabar le

غزل · Ghazal

نظارہ کر بت پر فن ہمارا کہ تن داغوں سے ہے گلشن ہمارا ہے عشق زلف میں خانہ بدوشی کہیں کیا ہے کہاں مسکن ہمارا جو روئے یاد دندان صنم میں تو پر گوہر ہوا دامن ہمارا بتوں کی سختیاں سہنے کو یا رب بنایا کیوں نہ دل آہن ہمارا ہماری یہ وصیت ہے دم مرگ کہ کوئے یار ہو مدفن ہمارا جوانی میں محبت کی لگی آگ جلا کس وقت میں خرمن ہمارا زمین و آسماں تھرا رہے ہیں صدائے صور ہے شیون ہمارا اک آہو چشم کی الفت میں صابرؔ بیاباں ہو گیا مسکن ہمارا

nazaara kar but-e-pur-fan hamaaraa

غزل · Ghazal

از حد سوال وصل پہ اصرار ہو چکا اقرار اب تو کیجئے انکار ہو چکا وہ آرزوئے دل سے خبردار ہو چکا تمہید وصل سنتے ہی ہشیار ہو چکا ساقی جو تیرے جام سے سرشار ہو چکا بس روز حشر تک بھی وہ ہشیار ہو چکا اب لن ترانی و ارنی کے وہ دن کہاں خود فیض عشق یار سے میں یار ہو چکا تجویز میں سزا کی کلام اب نہیں رہا خود مجھ سے جرم عشق کا اظہار ہو چکا سفاک رحم آیا مرے دل پہ کب تجھے جب تیر غرق تا لب سوفار ہو چکا اب میرے حال پر نہ ستم گار رحم کر یہ دل رہین لذت آزار ہو چکا پہنچایا ضعف نے مجھے جب بزم یار تک برخاست لوگ ہو گئے دربار ہو چکا اس میں قسم خدا کی بتو جھوٹ کچھ نہیں میں تم سے عشق کر کے گنہ گار ہو چکا بد نامیوں کا خوف مجھے اب نہیں رہا رسوائے خلق میں سر بازار ہو چکا اب اضطراب کیوں ہے ضرورت ہے صبر کی صابرؔ جب ان کو وصل کا اقرار ہو چکا

az-had savaal-e-vasl pe israar ho chukaa

غزل · Ghazal

آہ و نالہ ہے اشک باری ہے ہجر میں شکل یہ ہماری ہے صبح وصل اب نصیب ہو کہ نہ ہو ہجر کی رات ہم پہ بھاری ہے مر مٹے ہم تو تم پہ اور تمہیں آج تک ہم سے پردہ داری ہے تیری شمشیر ہجر کا قاتل دل عاشق پہ زخم کاری ہے ان کی جانب سے ہے غرور ستم میری جانب سے انکساری ہے ہیں جو سرشار بادۂ الفت ان کی عظمت بھی ہوشیاری ہے قتل عشاق کے لئے قاتل نگہ ناز کی کٹاری ہے بوسہ اپنی جبیں کا دیں وہ ہمیں ایسی قسمت کہاں ہماری ہے شام سے ہجر یار میں تا صبح ہم نے رو رو کے شب گزاری ہے بے حجابی ہے تیری دشمن سے اور عاشق سے پردہ داری ہے آپ کے حسن کی ملاحت سے پانی چاہ ذقن کا کھاری ہے خط رخسار یار اے صابرؔ باغ جنت کی سبز کیاری ہے

aah-o-naala hai ashk-baari hai

غزل · Ghazal

اب طرز عمل ان کی بدل جائے تو اچھا حال دل ناشاد سنبھل جائے تو اچھا ہر روز سناتا ہوں اسے قصۂ الفت افسوں یہ مرا یار پہ چل جائے تو اچھا بے چین رہا کرتا ہوں رہنے سے میں اس کے سینے سے مرے دل ہی نکل جائے تو اچھا جوش مئے الفت سے نہ پھٹ جائے خم دل آنکھوں سے ابل کر یہ نکل جائے تو اچھا دل رشک سے سلگاتے ہیں صابرؔ کا وہ ہر روز اکسیر بنے ایسا یہ جل جائے تو اچھا

ab tarz-e-amal un ki badal jaae to achchhaa

Similar Poets