S
Sabir Umar Galsulkar
Sabir Umar Galsulkar
Sabir Umar Galsulkar
poet
2Ghazal
Ghazalغزل
غزل · Ghazal
mukhtasar si miri kahaani hai
مختصر سی مری کہانی ہے کتنی بے نور زندگانی ہے انتہا خواہشوں کی کچھ بھی نہیں سب یہ دریاؤں کی روانی ہے کوئی نازاں ہے تیری قربت پر یاد ہم کو تری سہانی ہے اشک پلکوں پہ ہیں تو موتی ہیں گر یہ ٹپکے تو پھر یہ پانی ہے کون صابرؔ ہے بامراد یہاں کس کی دنیا میں شادمانی ہے
غزل · Ghazal
aaine tu hi bataa tu mujhe taktaa kyaa hai
آئنے تو ہی بتا تو مجھے تکتا کیا ہے گردشو بھول چکا ہوں مرا چہرہ کیا ہے تیرے دیدار کی قیمت مری بینائی ہے مجھ کو منظور یہ سودا بھی کہ مہنگا کیا ہے عزم انسان کی تقدیر بدل دیتے ہیں اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں تو تکتا کیا ہے چوم اس ہاتھ کو جس نے کہ تراشے اصنام بت تو پتھر کے ہیں ان میں بھلا رکھا کیا ہے خواب صابرؔ مری نیندوں کے ہی قاتل ٹھہرے زندگی جہد مسلسل سے زیادہ کیا ہے





