
Sada Neotanvi
Sada Neotanvi
Sada Neotanvi
Ghazalغزل
raaz-e-ulfat dil mein rakkhaa kijiye
راز الفت دل میں رکھا کیجئے عشق کو ہرگز نہ رسوا کیجئے کون ہے اپنا پرایا کون ہے کم سے کم اتنا تو سمجھا کیجئے روٹھئے گا تو منا لیں گے مگر میری مجبوری بھی سمجھا کیجئے چند روزہ زندگانی کے لئے ذہن کا دل کا نہ سودا کیجئے میں ہوں اپنے آپ میں الجھا ہوا ناصحو مجھ سے نہ الجھا کیجئے چاہتے ہیں آپ اگر امن و اماں اک نظر سے سب کو دیکھا کیجئے زندگی کا ہے یہی مقصد کہ آپ حق کو اس دنیا میں برپا کیجئے اے صداؔ گرد کدورت سے کبھی دل کا آئینہ نہ میلا کیجئے
ab hai tufaan muqaabil to khudaa yaad aaya
اب ہے طوفان مقابل تو خدا یاد آیا ہو گیا دور جو ساحل تو خدا یاد آیا عقل کی راہنمائی کا بھرم ٹوٹ گیا سامنے آئے مسائل تو خدا یاد آیا زندگی عیش کی چھاؤں میں گزاری ہم نے جب نہ نکلا کوئی حاصل تو خدا یاد آیا کیوں نہ جذبات کے طوفاں میں سنبھالا خود کو رہ گیا ٹوٹ کے جب دل تو خدا یاد آیا ہم نے خود سہل پسندی کا شعار اپنایا آ گئے سخت مراحل تو خدا یاد آیا زندگی بھر نہ کیا یاد اسے ہم نے صداؔ آ گئی موت کی منزل تو خدا یاد آیا
be-zamiri kaa pata detaa rahaa
بے ضمیری کا پتہ دیتا رہا ظرف تھا خالی صدا دیتا رہا دیکھنے کی ہم نے زحمت ہی نہ کی ہاتھ میں وہ آئینہ دیتا رہا چشم نم رنج و محن کے ساتھ ساتھ وقت ہم کو تجربہ دیتا رہا اور کیا کرتا غریبوں کا علاج پڑھ کے پانی پر دوا دیتا رہا سن کے وہ کرتے رہے تھے ان سنی پھر بھی میں ان کو سدا دیتا رہا اے صداؔ مجھ کو تو بس میرا یقیں ہر قدم پر حوصلہ دیتا رہا
jo dukhi ko dukhi samajhte hain
جو دکھی کو دکھی سمجھتے ہیں ہم انہیں آدمی سمجھتے ہیں حق کو تسلیم کر کے ساتھ نہ دے ہم اسے بزدلی سمجھتے ہیں پیار اخلاص کو محبت کو لوگ سوداگری سمجھتے ہیں ہم ہیں وابستۂ حبیب خدا اس کو خوش قسمتی سمجھتے ہیں کامیابی انہیں کو ملتی ہے وہ جو اپنی کمی سمجھتے ہیں حوصلہ مند ہیں صداؔ وہ لوگ جو غموں کو خوشی سمجھتے ہیں
dukh sahe dusron ki khushi ke liye
دکھ سہے دوسروں کی خوشی کے لئے یہ بڑی بات ہے آدمی کے لئے تب کہیں جا کے ہر سو اجالا ہوا خاک شمع ہوئی روشنی کے لئے فکر بانگ درا ہم کو خود چاہئے قافلے کب رکے ہیں کسی کے لئے جس طرف دیکھیے کتنے جھوٹے خدا صف بہ صف بیٹھے ہیں بندگی کے لئے اے مری زندگی میں نے تیرا بھرم کھو دیا لذت زندگی کے لئے راحتیں غم کے بعد آتی ہیں اے صداؔ غم بڑی چیز ہے آدمی کے لئے





