
Sadiq Naqvi
Sadiq Naqvi
Sadiq Naqvi
Ghazalغزل
زندگی درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیں درد فطرت کی عنایت کے سوا کچھ بھی نہیں مجھ گنہ گار کو ہے ناز جو رحمت پہ تری طرز اظہار ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں میری نظروں کا تقاضہ ہی سہی حسن ترا حسن اک شوخئ فطرت کے سوا کچھ بھی نہیں کچھ نہ کہنا بھی محبت میں محبت کی قسم ایک اظہار حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں اجنبی بن کے نگاہوں میں سمانے والے اجنبیت یہ عنایت کے سوا کچھ بھی نہیں میری دنیائے خیالات میں آنے والے یہ مرے خواب مسرت کے سوا کچھ بھی نہیں میرا ہر قول و عمل اس کا ہے شاہد صادقؔ میرا آئین صداقت کے سوا کچھ بھی نہیں
zindagi dard-e-mohabbat ke sivaa kuchh bhi nahin
کھلونوں کی دکاں پر درد کا شہکار لایا ہوں یہ کچھ آنسو ہیں جن کو بیچنے بازار آیا ہوں نگاہوں سے برستے سرد شعلوں کی کہانی کو غزل کا روپ دے کر آپ کی محفل میں لایا ہوں تصور کے افق پر جگمگاتے چاند تاروں کو اندھیری بستیوں کے نام اک پیغام لایا ہوں سناؤں تو یہ ڈر ہے آپ پر بار گراں ہوگا وہ اک سادہ سا افسانہ جسے آنکھوں میں پایا ہوں ذرا نظریں اٹھا کر مسکرا کر دیکھ تو لیجے بڑی امید لے کر آپ کی محفل میں آیا ہوں غم و درد و الم کے تیز طوفانوں کی گودی میں جو صدیوں سے رہا ہے میں اسی ہستی کا سایا ہوں جسے دنیا نے بڑھ کر زندگی کا نام دے ڈالا اسی بے ربط سی خواہش کا صادقؔ میں ستایا ہوں
khilaunon ki dukaan par dard kaa shahkaar laayaa huun





