Sadique Indori
mahak rahaa hai badan saaraa kaisi khushbu hai
مہک رہا ہے بدن سارا کیسی خوشبو ہے یہ تیرے لمس کی تاثیر ہے کہ جادو ہے تمہارا نرم و سبک ہاتھ چھو گیا تھا کبھی یہ کیسی آگ ہے سوزاں ہر ایک پہلو ہے ہے کس قدر متوازن نگاہ و دل کا ملاپ کہ جیسے دونوں طرف ایک ساں ترازو ہے رواں دواں ہے جدائی کا کرب یہ کیسا وہ مطمئن نہ مجھے اپنے دل پہ قابو ہے زمانہ کہتا ہے جس کو حسین تاج محل وفا کی آنکھ سے ٹپکا ہوا اک آنسو ہے بہت حسین ہے ماحول زندگی صادقؔ نظر کے سامنے جب سے وہ آئینہ رو ہے