
Saeed Nazar
Saeed Nazar
Saeed Nazar
Ghazalغزل
دشمن جاں بنا گماں اپنا ختم کر دے گا یہ جہاں اپنا سارے دعوے ہوئے غلط ثابت جل گیا پل میں ہی مکاں اپنا ہم نے بھی اس کو آزمایا تھا وہ بھی تو لے گا امتحاں اپنا لائق اعتبار ہی کب تھا وہ بدل دے گا پھر بیاں اپنا ہم نکل کر سفر پہ دیکھیں گے دن گزرتا ہے پھر کہاں اپنا غرق کشتی نہ ہو کہیں جا کر چھوٹا جاتا ہے بادباں اپنا
dushman-e-jaan banaa gumaan apnaa
مزے سے دیکھ رہا ہے یہ سب گگن والا پہاڑ ڈھوتا ہے نازک سا اک بدن والا جہاں بھی ملتا ہے پھولوں کا ذکر کرتا ہے لو آ رہا ہے ملو اس سے اک چمن والا ہوئے ہیں ہم بھی غنی اس کی اس ادا سے آج لٹا رہا ہے تبسم وہ خوش دہن والا بخیل ہونے کے چرچے تھے چار سو اس کے مگر وہ شہر میں تھا اس بہت ہی دھن والا اسے یہ سن کے بڑا ہی عجیب لگتا ہے مجھے ملا ہے جہاں میں شفیق من والا نگر نگر سے ہوا تنگ جب تو آخر کار اسی فضا میں گیا لوٹ کر وہ بن والا ہمارا خون بھی ملتا ہے اس سے چہرہ بھی وہ چاہے چین کا ہو یا وہ ہو یمن والا خوشی سے جھومنے لگتا تھا دل نظرؔ میرا دیار غیر میں جب بھی ملا وطن والا
maze se dekh rahaa hai ye sab gagan vaalaa
دل میں کیوں ہیں تلخیاں ہم کیا کہیں داستان جسم و جاں ہم کیا کہیں رہزنوں کی انگلیوں کو تھام کر چل رہا ہے کارواں ہم کیا کہیں پھوس کا تھا بچ نہ پایا آگ سے جل گیا وہ جو مکاں ہم کیا کہیں ملتے کس سے پوچھتے بھی کس سے ہم سامنے تھا بس دھواں ہم کیا کہیں تم شکایت لائے کس کی اپنے پاس وہ تو ہے اک بے زباں ہم کیا کہیں ایک عرصے سے ہمارے دل میں بھی راز اس کا ہے نہاں ہم کیا کہیں ڈھونڈتے ہیں زندگی کو وہ نظرؔ ہو گئی گم وہ کہاں ہم کیا کہیں
dil mein kyon hain talkhiyaan ham kyaa kahein
یوں تو ہے سارے جہاں کا مسئلہ حل ہوا کب اک مکاں کا مسئلہ بچ گئی ہے جان اب کے جنگ میں رہ گیا پھر بھی اماں کا مسئلہ ہم زباں ہوتا تو کہتا کچھ نہ کچھ درمیاں تھا جب زباں کا مسئلہ مصلحت سے لے رہا تھا کام وہ آ گیا تھا اس کی جاں کا مسئلہ مسئلہ سیلاب کا ہے اک طرف اک طرف آتش فشاں کا مسئلہ کند ذہنوں کے لئے اک درد سر بن گیا ہے نکتہ داں کا مسئلہ ہیں زمیں کے مسئلے لاکھوں نظرؔ اور اس پر آسماں کا مسئلہ
yuun to hai saare jahaan kaa masala
لمحہ بھر میں اپنا کر لے وہ نظر ہے مختلف کیا کریں تجھ سے طلب ہم تیرا سر ہے مختلف تم ہو ماہر چاک کرنے میں کسی بھی چیز کو جوڑتا ہوں میں مرا دست ہنر ہے مختلف میں کسی منزل کو منزل آج تک سمجھا نہیں ہیں الگ سوچیں مری میری ڈگر ہے مختلف خواہش سیم و صدف اس کو کہاں ہے تو بتا میں نہ کہتا تھا تجھے وہ اک بشر ہے مختلف اس زمیں کی دلدلوں سے واسطہ ان کو نہیں آسمانوں پر پرندوں کا سفر ہے مختلف ان دنوں دیوار کوئی درمیاں اس کے نہ تھی میں سمجھتا تھا زمیں پر میرا گھر ہے مختلف آنکھ میں آنسو ہیں اس کے بل جبیں پر ہیں پڑے لگ رہا ہے اب کے خط میں کچھ خبر ہے مختلف غم کا سورج چاند غم کا غم کی دھرتی ہے یہاں کیا بتاؤں میری دنیا کس قدر ہے مختلف خوں میں لت پت رات سے شاید ملی ہے یہ گلے غور سے دیکھو نظرؔ رنگ سحر ہے مختلف
lamha-bhar mein apnaa kar le vo nazar hai mukhtalif
دشمن جاں بنا گماں اپنا ختم کر دے گا یہ جہاں اپنا سارے دعوے ہوئے غلط ثابت جل گیا پل میں ہی مکاں اپنا ہم نے بھی اس کو آزمایا تھا وہ بھی تو لے گا امتحاں اپنا لائق اعتبار ہی کب تھا وہ بدل دے گا پھر بیاں اپنا ہم نکل کر سفر پہ دیکھیں گے دن گزرتا ہے پھر کہاں اپنا راز جلنے کا کر دیا افشاں دل سے اٹھتا ہوا دھواں اپنا غرق کشتی نہ ہو کہیں جا کر چھوٹا جاتا ہے بادباں اپنا
dushman-e-jaan banaa gumaan apnaa





