SHAWORDS
Saeed Shariq

Saeed Shariq

Saeed Shariq

Saeed Shariq

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں جی چاہتا ہے نت نئے منظر دکھاؤں میں وہ شخص چیختا ہوا انبوہ بن چکا کس کس کو بولنے دوں کسے چپ کراؤں میں اب تو ہنسی بھی ختم ہے افسردگی بھی ختم لب بستۂ ازل تجھے کتنا ہنساؤں میں اک خواب مثل اشک نکل آئے چشم سے دروازۂ گماں جو کبھی کھٹکھٹاؤں میں تو آ چکا ہے دیکھ لیا مان بھی لیا اب اور کیا کروں تجھے سر پر بٹھاؤں میں کیا فرق پڑ سکے گا اندھیرے کی شرح میں کچھ دیر روشنی سے اگر بھر بھی جاؤں میں خاموش رہ کہ پھر تری آواز سن سکوں نظروں سے دور جا کہ تجھے دیکھ پاؤں میں آئینے اس طرح مجھے تکتا ہے کس لیے پہچان بھی لیا کہ تعارف کراؤں میں شارقؔ ہر ایک شکل سے ملتی ہے کوئی شکل آخر بدن پہ کون سا چہرہ لگاؤں میں

kisht-e-dayaar-e-subh se taare ugaaun main

2 views

غزل · Ghazal

خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میں ڈوبتا جاتا ہوں دریائے فراموشی میں کبھی سناٹے کی تصویر کبھی چاپ کا عکس کتنے منظر نظر آئے ہمہ تن گوشی میں تیری آنکھیں ہیں نہاں میرے خد و خال کے ساتھ تیری آواز چھپی ہے مری خاموشی میں ڈھانپ سکتا تھا میں سینے کا کنواں بھی لیکن خرچ ہوتا رہا آنکھوں کی خلا پوشی میں چٹکیاں کاٹتی ہے روح بدن میں شارقؔ چیختا ہے کوئی سایہ کبھی سرگوشی میں

khaak hoti hui lahron ki ham-aaghoshi mein

2 views

غزل · Ghazal

جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا وہ زخم مجھے بار دگر کیوں نہیں لگتا ہم دونوں کی ویرانی بھی شامل ہے تو یہ دشت کیوں دشت نظر آتا ہے گھر کیوں نہیں لگتا ویسے میں تماشا تو تجھے لگتا ہوں اب بھی اک بار ذرا دیکھ ادھر کیوں نہیں لگتا کیوں خرچ کیے جاتا ہوں تیری بھی اداسی اب تیرا ضرر اپنا ضرر کیوں نہیں لگتا یہ ان چھوئے احساس کی ہر پور میں گردش اس طرح ہمیں زندگی بھر کیوں نہیں لگتا اچھا در تنہائی کھلا رہنے دوں یعنی دیوار سے لگ جاؤں مگر کیوں نہیں لگتا کیا ہے کہ کبھی پھولوں میں ڈھلتی نہیں کلیاں یہ غم کا شجر ہے تو ثمر کیوں نہیں لگتا کیوں روح نہیں کانپتی کچھ سوچ کے شارقؔ ڈرتا ہوں کہ اب ہجر سے ڈر کیوں نہیں لگتا

jis baagh kaa paudaa hai udhar kyon nahin lagtaa

2 views

غزل · Ghazal

میں اپنے عقب میں ہوں گلی ہے مرے پیچھے اک گزری ہوئی شام کھڑی ہے مرے پیچھے کب تھک کے گروں اور مرے اوپر سے گزر جائے اک راہ گزر کب سے پڑی ہے مرے پیچھے وہ دن بھی عبث لوٹ کے آیا مری خاطر یہ شب بھی یوںہی خار ہوئی ہے مرے پیچھے اک بار پلٹ کر نہیں دیکھی تھیں وہ آنکھیں ہر وقت یہ لگتا ہے کوئی ہے مرے پیچھے میں دشت بلا ہی سہی ساحل تھا کسی کا اک ناؤ کہیں ڈوب گئی ہے مرے پیچھے کانوں میں یوںہی انگلیاں ٹھونسے رہوں کب تک رہ بھولی ہوئی کوئی ہنسی ہے مرے پیچھے

main apne 'aqab mein huun gali hai mire pichhe

2 views

غزل · Ghazal

نکالنے کو وہی روز و شب دفینے سے اتر رہا ہوں دبے پاؤں زینے زینے سے نہ ہاتھ رکھنے سے کاغذ خموش ہو پایا نہ شور گھٹ سکا لفظوں کے ہونٹ سینے سے مجھے تو کیا مری آنکھوں کو بھی خبر نہ ہوئی بکھر رہا تھا مرا خواب کس قرینے سے خبر نہ تھی کہ جھکا دے گا میرے شانوں کو جو بوجھ گھٹتا چلا جا رہا تھا سینے سے میں تیری یاد بھی دل سے نکالتا لیکن لپٹ چکا ہے کوئی اژدہا خزینے سے

nikaalne ko vahi roz-o-shab dafine se

1 views

غزل · Ghazal

وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے ترا دشت ملتا ہے کس قدر مرے باغ سے کوئی ایسی راکھ بھری ہے میرے وجود میں یہ چراغ جلتا نہیں کسی بھی چراغ سے تجھے اس لیے میں انڈیلتا نہیں دفعتاً کہیں تو چھلک ہی نہ جائے دل کے ایاغ سے کوئی بات بھولنی ہو تو کیا ہے طریق کار کبھی پوچھ میرے لیے ہی اپنے دماغ سے یہ جھگڑتی آنکھیں بگڑتی نیند الجھتے خواب وہی محویت ہی بھلی تھی ایسے فراغ سے

vahi zakhm saa vahi gard si vahi daagh se

1 views

Similar Poets