SHAWORDS
Safdar Meer

Safdar Meer

Safdar Meer

Safdar Meer

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

os ki tamannaa mein jaise baagh jaltaa hai

اوس کی تمنا میں جیسے باغ جلتا ہے تو نہ ہو تو سینے کا داغ داغ جلتا ہے چاند چل دیا چپ چاپ سو گئے ستارے بھی رات کی سیاہی میں دل کا داغ جلتا ہے موت اک کہانی ہے زیست جاودانی ہے اک چراغ بجھتا ہے اک چراغ جلتا ہے قتل گاہ سے لے کر قاتلوں کے دامن تک خون ناحق فرہاد کا سراغ جلتا ہے ساتھیوں سے دوری میں اک جہاں سے دوری ہے مے میں دم نہیں ساقی اور ایاغ جلتا ہے

غزل · Ghazal

bahaar aai hai phir pairahan gulaabi ho

بہار آئی ہے پھر پیرہن گلابی ہو وہ چاند آئے سر انجمن گلابی ہو سیاہ رات سی چھائی وہ زلف چہرے پر جبین ناز گلابی بدن گلابی ہو کھلیں جو بند قبا رات جگمگا اٹھے مہکتی سیج شکن در شکن گلابی ہو ہوا کی لرزشیں دہکاتیں عارض و لب کو حیا کی موج سے سارا بدن گلابی ہو وہ ہونٹ چپ ہوں تو آنکھوں میں پھول سے جھمکیں ہلیں تو ساری فضائے سخن گلابی ہو گلال اس طرح برسائے کوئی چار طرف چمن گلابی ہوائے چمن گلابی ہو سیاہیٔ شب ہجراں سیاہ تر نہ کرو جو ہو تو چاند کا میرے گہن گلابی ہو وطن سے دور بہاروں کو کھوجنے والے جو ان دنوں میں زمین وطن گلابی ہو

غزل · Ghazal

phir koi aa rahaa hai dil ke qarib

پھر کوئی آ رہا ہے دل کے قریب داغ تازہ کھلا ہے دل کے قریب پھر کوئی یاد سایہ افگن ہے دھندلی دھندلی فضا ہے دل کے قریب پھر کوئی تازہ واردات ہوئی جمگھٹا سا لگا ہے دل کے قریب آج بھی چین سے نہ سوئیے گا پھر کہیں رت جگا ہے دل کے قریب کل کھلے تھے یہاں نشاط کے پھول اب دھواں اٹھ رہا ہے دل کے قریب

Similar Poets