
Sagar Akbarabadi
Sagar Akbarabadi
Sagar Akbarabadi
Ghazalغزل
jiinaa muhaal marnaa bhi dushvaar ho gayaa
جینا محال مرنا بھی دشوار ہو گیا جب سے یہ جانا میں نے مجھے پیار ہو گیا کچھ تو نے اپنا واسطہ دے کر منا لیا کچھ اپنے دل سے میں بھی تو لاچار ہو گیا تیرے خیالوں میں لئے بیٹھا تھا میں قلم غزلوں کا ایک ذہن میں گلزار ہو گیا جب تک رہا وہ دل میں تو اقرار تھا بہت کیسے وہ لب پہ آتے ہی انکار ہو گیا جانا پڑا تھا کل مجھے دشمن کے کوچے میں کچھ دوستوں سے بھی وہاں دو چار ہو گیا جب بھی لیا ہے دل سے میں مشکل کشا کا نام دشوار راستہ بھی تو ہموار ہو گیا
tu mire saath chal nahin saktaa
تو مرے ساتھ چل نہیں سکتا میں بھی رستہ بدل نہیں سکتا میں تو گر کر سنبھل بھی جاؤں گا تو گرا تو سنبھل نہیں سکتا میں تو ڈوبوں گا ہی مگر تو بھی اس بھنور سے نکل نہیں سکتا اس طرح منجمد ہوں ماضی میں آنسوؤں سے پگھل نہیں سکتا لو مرا امتحاں جو لازم ہے میں کسی طور ٹل نہیں سکتا ہے جو جذبہ تری محبت میں میرے شعروں میں ڈھل نہیں سکتا ملک طالب ہے پختہ کاری کا صرف وعدوں پہ پل نہیں سکتا تم جلا سکتے ہو مجھے ساگرؔ میرا دیوان جل نہیں سکتا
vo kyaa gayaa ki saath mein qaraar bhi chalaa gayaa
وہ کیا گیا کہ ساتھ میں قرار بھی چلا گیا وہ روز ملنے جلنے کا ہنسی کا سلسلہ گیا وہ لے گیا ہے ساتھ میں وجود میرا چھین کر پھر آئے گا وہ لوٹ کر یقین بھی دلا گیا کہ جیسے ہر نوالے سے نمک کوئی نکال لے گزر رہی ہے زندگی پہ ذائقہ چلا گیا کیا اس کے دل میں بات تھی پتا نہیں یہ کیوں کیا جلا دیا بجھا گیا بجھا دیا جلا گیا وہ زندگی میں یک بیک جو چھا گیا حواس پر کہ جیسے کوئی زلزلہ ہو بام و در ہلا گیا وہ چاہے اب کرم کرے یا دے خطاؤں کی سزا کہ کچھ بھی کہنے سننے کا اب حوصلہ چلا گیا اداس اداس آنکھوں سے کہا جب اس نے الوداع نہ پھر رہیں شکایتیں جو تھا بھی وہ گلہ گیا پھر اس کے بعد شہر میں وہ رونقیں نہیں رہیں رہا وہ جب تلک یہاں سبھی کا غم بھلا گیا کیوں سوچ میں پڑا ہوا ہے ساگرؔ اب تو مستقل برا جو وقت آیا تھا کبھی کا وہ چلا گیا
ye kahaan ki ulfat hai dur-dur rahte ho
یہ کہاں کی الفت ہے دور دور رہتے ہو میرے تو نہ بن پائے مجھ کو اپنا کہتے ہو مل کے بانٹ لیں گے ہم رنج اور خوشی اپنی درد پھر جو ہوتا ہے کیوں اکیلا سہتے ہو میرا کچھ کہا تیرے دل کو لگ گیا شاید بات بھی نہیں کرتے کھوئے کھوئے رہتے ہو مجھ سے جو شکایت ہے مجھ سے ہی کہو مل کے غیر سے ہی ملتے ہو غیر سے ہی کہتے ہو ٹھیس جب بھی لگتی ہے میرا دل دھڑکتا ہے تم جدا نہ ہو جاؤ چشم تر میں رہتے ہو کس طرح ملوں تم سے ایک جا نہیں رکتے آندھیوں سے چلتے ہو مثل دریا بہتے ہو اس نے یہ کہا ساگرؔ سن کے میری غزلوں کو کر دیا ہے دل دادہ شعر ایسے کہتے ہو





