SHAWORDS
Saghir Ahmad Soofi

Saghir Ahmad Soofi

Saghir Ahmad Soofi

Saghir Ahmad Soofi

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

صحرا صحرا گھوم رہے ہیں کیا کیا سوانگ رچائے ہیں آج تمہارے شہر میں پیارے جوگی بن کر آئے ہیں چاروں اور اندھیرا پا کر من کی جوت جگائے ہیں جو عالم میں رسوا کر دے ایسا روگ لگائے ہیں غم کی باتیں کہتے کہتے ہونٹوں کو سی لیتے ہیں کتنا بوجھ ہے بھاری دل پر جو برسوں سے اٹھائے ہیں ہم ہیں تنہا رین اندھیری طوفانوں کا جھونکا بھی چلتے ہی بجھ جاتے ہیں سب جتنے چراغ جلائے ہیں صوفیؔ جی دیوانہ ٹھہرے عقل و ہوش کی بات کہاں لیکن وہ بھی تجھ سے بچھڑ کر آج بہت پچھتائے ہیں

sahraa sahraa ghuum rahe hain kyaa kyaa svaang rachaae hain

غزل · Ghazal

ہر انجمن میں دعویٔ وحشت کیا کرو کڑھتا ہو جی تو لوگوں سے نفرت کیا کرو جن دوستوں کے بل پہ سجاتے ہو بزم خاص ان سب کی احتیاط سے غیبت کیا کرو توبہ کرو جو صبح میں ٹوٹے بدن کی شاخ شب میں بیان مے کی فضیلت کیا کرو گھر سے چلو تو زیب کرو طوق بزدلی گھر میں رہو تو عزم شجاعت کیا کرو کرتے رہو حریفوں سے اعلان سرکشی لیکن ملو تو ان کی اطاعت کیا کرو دلی میں ہم نشینوں سے صوفیؔ خدا بچائے بس دور رہ کے اپنی حفاظت کیا کرو

har anjuman mein daava-e-vahsaht kiyaa karo

غزل · Ghazal

کب تک ہماری سعیٔ عمل رائیگاں رہے کب تک غبار دیدہ و دل رائیگاں رہے آسودۂ بیاں تو ہزاروں ہیں بزم میں لیکن وہ بد نصیب جو تشنہ بیاں رہے ہے اب زبان خلق انہیں کی فسانہ خواں کل تک ترے عتاب میں جو بے زباں رہے کیا ذکر عیش رفتۂ عہد بہار کا غم بھی مجھے قبول ہے گر جاوداں رہے کیا احتیاط‌ ساغر و مینا کروں کہ جب بربادیوں میں سازش پیر مغاں رہے صوفیؔ چمن میں کوشش پیہم کے باوجود جو پھول نوحہ خواں تھے یوں ہی نوحہ خواں رہے

kab tak hamaari sai-e-amal raaegaan rahe

غزل · Ghazal

اپنے جنوں کی تازہ حکایت ہے آج بھی دیوانگی ہی شمع ہدایت ہے آج بھی ترک تعلقات کو برسوں گزر گئے لیکن کسی کی یاد سلامت ہے آج بھی ان کے حسین طرز تغافل کی خیر ہو میری وفا سے جن کو شکایت ہے آج بھی آیا کبھی تھا شہر نگاراں سے دل فگار پلکوں پہ سیل اشک ندامت ہے آج بھی صوفیؔ نے کر دیا سر تسلیم خم مگر اس انجمن میں ذکر بغاوت ہے آج بھی

apne junun ki taaza hikaayat hai aaj bhi

غزل · Ghazal

کام آئی عشق کی دیوانگی کل رات کو حسن نے بخشی متاع دوستی کل رات کو قامت دل کش لباس سرخ میں تھی میہماں میرے گھر اک سرخ مخمل کی پری کل رات کو تمتمائے گال بھیگے ہونٹ چشم نیم وا تھی مجسم جیسے میری شاعری کل رات کو وہ مرے شانہ بہ شانہ صحن میں محو خرام چاند کے پہلو میں جیسے چاندنی کل رات کو نرم بانہوں سے مرے شانوں سے کچھ سازش ہوئی پڑ گئی گردن میں موتی کی لڑی کل رات کو شب کے سناٹے میں پیمان وفا باندھے گئے کچھ نئے وعدوں نے کی جادوگری کل رات کو ہر گھڑی صوفیؔ نشاط انگیز لمحوں میں کٹی زندگی تھی در حقیقت زندگی کل رات کو

kaam aai ishq ki divaangi kal raat ko

Similar Poets